متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں پٹرول مہنگا ہونے کا خدشہ، ایران اسرائیل جنگ کے باعث خام تیل 100 ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے

خلیج اردو
دبئی: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کے اثرات متحدہ عرب امارات میں ایندھن کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

جمعہ کے روز اسرائیل کی جانب سے ایران پر جوہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے غیرمعمولی فضائی حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 14 فیصد تک اضافہ ہوا۔ ہفتہ کے اختتام پر ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کروڈ کی قیمتیں بالترتیب 72.98 اور 74.23 ڈالر فی بیرل بند ہوئیں، جو کہ 7 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

جون میں یو اے ای نے ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھی تھیں، جہاں سپر 98، اسپیشل 95 اور ای پلس کی قیمتیں بالترتیب 2.58، 2.47 اور 2.39 درہم فی لیٹر مقرر تھیں۔ تاہم اگر موجودہ جیوپولیٹیکل کشیدگی برقرار رہی تو اگلے ماہ ان قیمتوں میں واضح اضافہ متوقع ہے۔

سوئس کوٹ بینک کی سینئر تجزیہ کار ایپک اوزکارڈیسکایا کے مطابق: "اگر حالات قابو میں آ جاتے ہیں تو قیمتیں دوبارہ 70 ڈالر فی بیرل سے نیچے جا سکتی ہیں، لیکن اگر جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں، اگرچہ یہ اضافہ وقتی ہو گا۔”

زائے کیپیٹل کے ماہر نعیم اسلم نے کہا: "مارکیٹ اس وقت سخت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اگر توانائی کا بنیادی انفراسٹرکچر متاثر ہوا تو قیمتیں 120 ڈالر تک بھی جا سکتی ہیں۔”

جولیئس بیر کے اقتصادی ماہر نوربرٹ روئیکر کے مطابق: "ہماری رائے میں یہ اضافہ وقتی ہے۔ تیل کا عالمی ذخیرہ وافر ہے، اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ بھی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سپلائی کا بڑا بحران فی الحال متوقع نہیں۔”

اگرچہ ماہرین نے آبنائے ہرمز کی بندش کو کم امکان والا خطرہ قرار دیا ہے، لیکن ساکسو بینک کے اولی ہینسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا کے سب سے اہم تیل تجارتی راستے — جہاں سے روزانہ 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے — میں رکاوٹ آتی ہے، تو قیمتوں میں فوری اور شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button