
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے دبئی کے المِنهَد ایئربیس پر میزائل حملے سے متعلق میڈیا رپورٹس کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ یو اے ای کی وزارت دفاع نے تاہم تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے آنے والے ایک ڈرون کو اماراتی علاقائی سمندری حدود میں داخل ہونے سے قبل نشانہ بنایا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں دبئی اور اردن میں موجود امریکی اڈوں کو ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے اتوار کو آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش روکنے کے لیے ایران کے لارک جزیرے پر موجود دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد شہری بحری جہازوں اور عالمی تجارت کی آزادانہ نقل و حرکت کا تحفظ تھا۔
ایران نے جواب میں اردن میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اردن کی فوج کے مطابق اس نے آٹھ میزائلوں کو فضا میں ہی روک لیا۔
دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں دوسرا واقعہ
ایران سے آنے والے ڈرون کی نشاندہی دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں دوسرا ایسا واقعہ ہے۔ 18 اگست کو بھی یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا تھا جنہیں سمندری جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے لیے فائر کیا گیا تھا۔
انور قرقاش کا خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کی پالیسی پر ردعمل
یو اے ای کے صدارتی مشیر برائے سفارتی امور ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا کہ خلیجی ممالک اور اردن کو نشانہ بنانے کی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ہے۔
انور قرقاش نے کہا کہ خطے میں نہ جنگ نہ امن کی صورتحال پائیدار نہیں۔ کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانے کے لیے حقیقت پسندانہ سیاسی حل ضروری ہیں۔
یو اے ای نے ایران کو حملے کا مکمل ذمہ دار قرار دے دیا
یو اے ای کی وزارت خارجہ نے 31 اگست کو اماراتی علاقائی سمندری حدود میں روکے گئے ایرانی ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران کو اس حملے اور اس کے نتائج کا مکمل ذمہ دار قرار دیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق یہ واقعہ خطرناک کشیدگی، امارات کی خودمختاری اور سلامتی کی کھلی خلاف ورزی اور شہریوں و رہائشیوں کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
یو اے ای نے ایران سے مالی تعلقات معطل کردیے
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں یو اے ای نے رواں ماہ ایران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری اور مالی لین دین مزید اطلاع تک معطل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ علاقائی کشیدگی کے باعث کیا گیا جس نے خطے اور عالمی امن و سلامتی کو متاثر کیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کا تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں جاری جنگ چھ ماہ سے زائد عرصے میں داخل ہوچکی ہے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور توانائی کی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔







