
خلیج اردو
دبئی، 17 اپریل 2025
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تحفظ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام اسکول بسوں میں جدید خودکار آگ بجھانے کے نظام کی تنصیب کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ قانون 15 اپریل 2025 سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔
دبئی سول ڈیفنس کے امارات سیفٹی لیبارٹری کے جنرل مینجر، ڈیوڈ کیمبل نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ وزارت صنعت و جدید ٹیکنالوجی نے ہدایت جاری کی ہے کہ اب اسکول بسوں کے اجازت نامے صرف اسی صورت میں جاری یا تجدید ہوں گے جب ان میں وزارت سے منظور شدہ خودکار فائر بجھانے کے نظام نصب ہوں گے۔
یہ اقدام روزانہ اسکول آنے جانے والے تقریباً پانچ لاکھ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کے ابتدائی مرحلے میں اسکول بسوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے تاہم قانون کا اطلاق صرف اسکول ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں۔ ملک بھر میں 22 یا اس سے زیادہ مسافروں (بشمول ڈرائیور) کی گنجائش رکھنے والی تمام نئی اور موجودہ بسیں، خواہ وہ سنگل منزلہ ہوں یا ڈبل منزلہ، سخت یا جوڑ والی گاڑیاں ہوں، اس قانون کی پابند ہوں گی۔
ڈیوڈ کیمبل کے مطابق، "اگرچہ ہماری اولین ترجیح اسکول بسوں کی حفاظت ہے، لیکن یہ قانون وسیع تر عوامی ٹرانسپورٹ کو بھی محیط ہے تاکہ پورے ملک میں بس مسافروں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔”
کیمبل نے مزید کہا کہ مستقبل میں اس قانون کے دائرہ کار میں دیگر گاڑیاں بھی شامل کی جا سکتی ہیں جیسے کہ فکسڈ اور موبائل کرینیں، مال بردار گاڑیاں، بھاری زمین کھودنے والی مشینیں، لفٹنگ آلات، بلند پلیٹ فارم، فوجی گاڑیاں اور ریل گاڑیاں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سالانہ بنیادوں پر سازوسامان تیار کرنے والی اور تنصیب کرنے والی کمپنیوں کا آڈٹ کیا جائے گا اور مقامی ٹرانسپورٹ حکام یہ تصدیق کریں گے کہ تمام نظام وزارت سے منظور شدہ ہوں۔
برطانیہ میں قائم کمپنی "ریاکٹن فائر سپریشن”، جو متحدہ عرب امارات میں سرگرم عمل ہے، اس نظام کی تنصیب کے لیے "تابرہ” نامی کمپنی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ریاکٹن کے سربراہ سیم میلنز نے بتایا کہ ان کا نظام آگ کو فوری طور پر شناخت کر کے خود بخود بجھاتا ہے، خاص طور پر انجن جیسے خطرناک حصوں میں۔
انہوں نے کہا، "ہم نے اپنی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ قانون کے نفاذ سے قبل بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ ہمارا ہدف اگلے بارہ ماہ میں ملک کی تمام 17 ہزار اسکول بسوں میں یہ نظام نصب کرنا ہے۔”
میلنز نے مزید کہا کہ ان کے نظام نے ایک ممکنہ حادثے کو روکا، جس سے ان کی ٹیکنالوجی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
تابرہ کے جنرل مینجر حسن حجازی نے کہا کہ ان کی کمپنی ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے ساتھ قریبی تعاون سے تنصیب کے مراحل کو انجام دیتی ہے تاکہ گاڑیوں کی بندش کم سے کم ہو اور حفاظتی معیار برقرار رہے۔
انہوں نے مزید کہا، "ہم صرف تصدیق شدہ مصنوعات استعمال کرتے ہیں اور ہمارے سخت معیار کی جانچ کے طریقہ کار ہر تنصیب کو قانون کے مطابق بناتے ہیں۔”
ان کے مطابق اسکول بسیں اس قانون کے اطلاق کا پہلا مرحلہ ہیں، اور آنے والے برسوں میں دیگر اقسام کی گاڑیاں بھی اس دائرے میں آئیں گی، جس کے لیے ان کی کمپنی پوری طرح تیار ہے۔






