خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کے محکمہ صحت کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحسینی نے منگل کے روز کورونا وائرس کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وائرس کے بارے میں باقاعدگی سے تحقیق کے بعد طبی حکام کے سامنے آیا ہے کورونا وائرس کی نئی اقسام کی وجہ دنیا بھر میں کورونا کیسز میں ایک بار پھر سے اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر فریدہ نے بتایا کہ کہ محققین کے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ وائرس کی نئی قسم پہلے سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اور پہلے سے زیادہ متعدی ہے۔ لیکن ابھی تک نئی اقسام کی وجہ سے بیماری میں شدت آنے، یا شرح اموات میں اضافے یا کسی اور پیچدگی کے ثبوت نہیں ملے۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں کورونا کی نئی قسم کے سامنے آنے کے اعلان کے بعد سے یو اے ای ان تبدیلی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اور نئی اقسام پر تحقیق اور اس کی ٹریکنگ کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی جو تمام ہیلتھ اتھارٹیز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
کیا ویکسین کورونا کی نئی قسم کے خلاف مؤثر ہے؟
ویکسین کے نئی اقسام کے خلاف مؤثر ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر فریدہ کا کہنا تھا کہ "دنیا بھر میں نئی قسم کے پھیلاؤ کے باوجود متعدد تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ ویکسین اس وائرس کے خلاف ضروری حفاظت فراہم کرنےمیں مؤثر ثابت ہوئی ہے”َ۔
مزید برآں، ڈاکٹر فریدہ نے الحسن ایپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ الحسن ایپ کا اپ ڈیٹڈ ورژن دستیاب ہے جس نے ویکسین کے لیے نیشنل الیکٹرانک رجسٹری کا کام کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ "الحسن ایپ پر موجود معلومات (ڈیٹا) حکام کی جانب سے تصدیق شدہ ہے اور یہ ڈٰیٹا بتاتا کہ کس شخص نے ویکسین لگوا لی ہے۔ اس ایپ میں کووڈ 19 ویکسین کی خوراکوں سے متعلق تمام ڈیٹا دستیاب ہے، جوکہ متعدد ویکسینیشن سنٹروں کیجانب سے فراہم کیا گیا ہے۔ اور لوگوں جب ضرورت ہو وہ اپنے ڈیٹا کو پرنٹ کر سکتے ہیں”َ۔
Source: Khaleej Times







