متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: پاکستانی سفارتخانے کی بیرون ملک جعلی ملازمتوں سے خبردار کرنے کی ہدایت

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارتخانے نے پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک جعلی ملازمتوں کی پیشکشوں سے محتاط رہنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ سفارتخانے نے کہا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بیرون ملک ملازمتوں کی تشہیر کے حوالے سے احتیاط برتی جائے، کیونکہ متعدد پاکستانی ایسے فراڈ کا شکار ہو کر شدید مشکلات میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

سفارتخانے نے اپنے اعلامیے میں واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات سے باہر کسی بھی ملک میں ملازمت کی پیشکش قبول کرنے سے قبل اس کی تصدیق مستند اور سرکاری ذرائع سے کی جائے تاکہ کسی قسم کی دھوکہ دہی یا استحصال سے بچا جا سکے۔

سفیر پاکستان برائے متحدہ عرب امارات، فیصل نیاز ترمذی نے خبردار کیا ہے کہ جو پاکستانی متحدہ عرب امارات میں ملازمت کی تلاش میں آنا چاہتے ہیں، وہ صرف درست اور متعلقہ دستاویزات کے ساتھ آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحتی ویزے پر آ کر ملازمت تلاش کرنا قانوناً درست نہیں، اور اس کی جگہ ملازمت تلاش کرنے کے لیے مخصوص "جاب سیکر ویزا” حاصل کیا جائے۔

اکتوبر 2022 میں متحدہ عرب امارات نے “جاب ایکسپلوریشن ویزا” متعارف کروایا تھا تاکہ ہنر مند اور نوجوان افراد کو ملازمتوں کے مواقع تلاش کرنے کی سہولت دی جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق، ہر سال 6 سے 8 لاکھ پاکستانی ملازمت یا سیاحت کے لیے بیرون ملک روانہ ہوتے ہیں، جن میں بڑی تعداد خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ کا رخ کرتی ہے۔

جو پاکستانی سیاحت کے لیے امارات آتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ واپسی کا ٹکٹ، کم از کم 3000 درہم اور ہوٹل بکنگ جیسے ثبوت ہمراہ رکھیں۔ اب پاکستانی شہری پانچ سالہ کثیر بار داخلہ سیاحتی ویزے سے بھی استفادہ حاصل کر سکتے ہیں، جس کا اعلان حال ہی میں امارات میں تعینات پاکستانی سفیر حمد عبید الزعابی نے کیا۔

یہ ویزا شہریوں کو بغیر کسی مقامی ضامن یا میزبان کے بار بار یو اے ای آنے کی سہولت دیتا ہے۔

واضح رہے کہ امارات میں پاکستانی کمیونٹی آبادی کے لحاظ سے دوسری بڑی غیر ملکی برادری ہے، اور حکام کی جانب سے بارہا یہ یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ ہر پاکستانی یہاں ملک کا سفیر ہے، لہٰذا قوانین کی مکمل پاسداری کی جائے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button