متحدہ عرب امارات

یو اے ای: 17 سالہ نوجوان ڈرائیونگ سیکھ سکتے ہیں؟ والدین نئے قانون پر عملدرآمد میں تاخیر سے مایوس

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں مارچ 2025 میں اعلان کیے گئے قانون کے مطابق 17 سالہ نوجوان ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم عملی طور پر یہ قانون تاحال نافذ نہیں ہوا، جس پر والدین نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں کو ڈرائیونگ سکھانے کی خواہش رکھنے والے والدین اس وقت تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ بیشتر ڈرائیونگ انسٹیٹیوٹس اب بھی 17.5 سال عمر کی حد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

دبئی میں مقیم والدہ لِلی نے بتایا کہ انہوں نے اپنی 17 سالہ بیٹی کے لیے مختلف انسٹیٹیوٹس سے رابطہ کیا لیکن سب نے انکار کر دیا۔ "سب نے یہی کہا کہ اگرچہ قانون کا اعلان ہو چکا ہے، لیکن انہیں کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی کہ وہ 17 سال کے افراد کو تربیت فراہم کریں۔”

انہوں نے کہا کہ ادارے فائل تو کھولنے کو تیار ہیں لیکن عملی تربیت جنوری 2026 سے ہی ممکن ہوگی، جب بچی کی عمر 17.5 سال ہوگی۔ "یہ ایک ضائع شدہ موقع ہے۔ چھٹیاں تھیں، ٹریفک کم ہوتا ہے، اور اسکول کا دباؤ نہیں ہوتا۔ یہ بہترین وقت ہوتا تربیت کے لیے۔”

نیا قانون، پرانی پالیسی
واضح رہے کہ اکتوبر 2024 میں پاس ہونے والے وفاقی قانون کے مطابق اب 17 سال کی عمر میں ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے، جب کہ اس سے قبل یہ عمر 17.5 سال تھی، اور لائسنس 18 سال پر جاری ہوتا تھا۔

تاہم، مختلف ڈرائیونگ اداروں نے تصدیق کی ہے کہ قانون کے عملی نفاذ کے لیے انہیں تاحال کوئی سرکاری ہدایت موصول نہیں ہوئی۔

انسٹیٹیوٹس کی وضاحت
گلداری ڈرائیونگ انسٹیٹیوٹ کی ایک آپریٹر نے بتایا، "ہم اس وقت فائل کھول سکتے ہیں، لیکن تربیت اس وقت شروع ہوگی جب طالبعلم کی عمر 17.5 سال ہوگی یا جب نیا قانون نافذ العمل ہوگا۔”

شارجہ ڈرائیونگ انسٹیٹیوٹ کے نمائندے نے بھی یہی مؤقف اپنایا، "ہمیں معلوم ہے کہ قانون تبدیل ہو چکا ہے، مگر ابھی تک ہمیں کوئی اطلاع نہیں ملی کہ اسے کب نافذ کیا جائے گا۔”

سوشل میڈیا پر والدین کا ردعمل

متعدد والدین نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے بچوں کو قانون کے اعلان پر خوشی ہوئی تھی، مگر حقیقت میں ابھی تک ان کے لیے کوئی عملی سہولت میسر نہیں۔

ایک والد نے لکھا: "میرے بیٹے نے بہت امید باندھ لی تھی، لیکن ہر کال پر یہی بتایا جاتا ہے کہ یہ قانون ابھی دبئی میں لاگو نہیں ہوا۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button