
خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متحدہ عرب امارات میں نومبر کے دوران پیٹرول مزید مہنگا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حوثی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
بدھ کی صبح سعودی عرب کی ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 116 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ بدھ کی صبح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 101.48 ڈالر جبکہ برینٹ خام تیل 115.68 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، دونوں کی قیمتوں میں بالترتیب 1.6 اور 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات میں 2015 سے پیٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی کے نرخوں سے منسلک ہیں، اسی لیے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر مقامی صارفین پر پڑتا ہے۔ اکتوبر میں پیٹرول کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ سپر 98 کی قیمت 4.40 درہم فی لیٹر، اسپیشل 95 کی 4.28 درہم اور ای پلس 91 کی قیمت 4.21 درہم مقرر کی گئی تھی۔
اکتوبر کے دوران دسمبر کے لیے خام تیل کے معاہدوں کی اوسط قیمت تقریباً 107.3 ڈالر فی بیرل رہی، جو ستمبر میں 102 ڈالر تھی۔ عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور تیل کے ذخائر میں کمی نے بھی قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
صارفین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نومبر میں پیٹرول کی قیمتیں جولائی 2022 کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیں گی، جب فی لیٹر قیمت 4.63 درہم تک پہنچ گئی تھی۔ نومبر کے نئے نرخوں کا اعلان ہفتے 31 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات کی فیول پرائس کمیٹی کرے گی۔
اسکائی لنکس کیپیٹل گروپ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈینیئل تکیدین کے مطابق حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے باعث خدشات برقرار ہیں، تاہم سفارتی کوششیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید بڑے اضافے کو روکنے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت سے خطے میں کشیدگی کے خدشات اور تیل کی قیمتوں میں شامل جغرافیائی سیاسی اضافی لاگت کم ہو سکتی ہے۔







