
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وفاقی اپیل کورٹ نے سوڈانی فوج کو غیر قانونی طور پر اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کے جرم میں 8 افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے مقدمے میں ملوث افراد کے زیر استعمال موبائل فونز، مواصلاتی آلات اور ضبط شدہ گولہ بارود بھی بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ سزا مکمل ہونے کے بعد غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر بھی کیا جائے گا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق اسلحے کی خرید و فروخت کے لیے تجارتی کمپنیوں، بینک اکاؤنٹس، مالیاتی منتقلی اور نقد ادائیگیوں کا نیٹ ورک استعمال کیا گیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان نے متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی تجارت کی۔ گوریونوف طرز کا گولہ بارود متحدہ عرب امارات لایا گیا، جسے بعد ازاں فضائی راستے سے سوڈان کے شہر پورٹ سوڈان منتقل کیا جانا تھا۔ اس مقصد کے لیے طیارے میں موجود فوجی سازوسامان کو دستاویزات میں طبی آلات اور طبی سامان ظاہر کیا گیا۔
عدالت نے منی لانڈرنگ کے جرم میں بعض ملزمان پر 10 لاکھ درہم فی کس جرمانہ بھی عائد کیا، جبکہ ضبط شدہ رقوم میں سے 15 لاکھ 45 ہزار درہم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ سات دیگر افراد کو تین، تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ مقدمے میں ملوث چھ کمپنیوں پر بھی منی لانڈرنگ کے جرم میں 10 لاکھ درہم فی کمپنی جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں کے لائسنس اور رجسٹریشن منسوخ کرنے اور ان کے زیر حراست اثاثے اور غیر قانونی آمدن ضبط کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق رشید عمر عبدالقادر علی نے اسلحے کے سودوں میں مرکزی کردار ادا کیا اور اپنی کمپنی کے ذریعے سپلائی کے معاملات طے کیے۔ یاسر العطا نے اسلحے اور فوجی سازوسامان کی خریداری کی درخواست دی اور پورٹ سوڈان ایئرپورٹ پر طیارے کی لینڈنگ کی اجازت حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ عثمان الزبیر نے ادائیگیوں کا انتظام کیا، جبکہ ماہر عبدالجلیل نے مالیاتی رابطہ کار کے طور پر کام کرتے ہوئے مختلف کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم منتقل کیں۔ عدالتی فیصلے میں ایک سودے کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات میں تقریباً 80 لاکھ درہم نقد ادا کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان نے جعلی دستاویزات، کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اسلحے کے سودوں سے حاصل ہونے والی رقوم کے ذرائع اور منزل چھپانے کی کوشش کی۔ سوڈان میں جاری مسلح تنازع کے دوران اسلحے کی غیر قانونی فراہمی اور متحدہ عرب امارات کے مالیاتی نظام کے استعمال سے ملک کے بین الاقوامی تعلقات اور مفادات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
مقدمے میں مبارک علی الشیخ اور مصعب عوض الکریم حسن کو الزامات سے بری کر دیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے تحقیقات اور تکنیکی و مالیاتی شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو منظم غیر قانونی اسلحہ تجارت اور منی لانڈرنگ کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے پر عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔







