
خلیج اردو
دبئی کے مصروف ترین ٹریفک جنکشنز میں سے ایک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے علاقے میں 69 کروڑ 60 لاکھ درہم کے ترقیاتی منصوبے کے تحت آخری پل بھی جمعہ 30 اکتوبر کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد اس جنکشن پر گاڑیوں کا اوسط انتظار 12 منٹ سے کم ہو کر تقریباً 90 سیکنڈ رہنے کی توقع ہے۔
منصوبے کے تحت سابق ورلڈ ٹریڈ سینٹر راؤنڈ اباؤٹ ختم کرکے اس کی جگہ زمینی سطح پر ایک نیا چوراہا بنایا گیا ہے، جسے پانچ پلوں کے ذریعے مختلف سمتوں سے آنے اور جانے والی ٹریفک کے لیے مربوط کیا گیا ہے۔ آخری پل ایک ہزار میٹر طویل اور دو لین پر مشتمل ہے، جو المجلیس اسٹریٹ سے 2 دسمبر اسٹریٹ کی جانب جانے والی ٹریفک کے لیے کھولا گیا ہے۔ یہ پل فی گھنٹہ تقریباً 3 ہزار گاڑیوں کی آمدورفت کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پانچوں پلوں کی مجموعی لمبائی 5 ہزار میٹر ہے اور انہیں تین بڑے رابطہ راستوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شیخ زاید روڈ سے شیخ خلیفہ بن زاید اسٹریٹ کی جانب جانے والا ایک ہزار میٹر طویل پل دیرا جانے والے ڈرائیوروں کے لیے براہ راست راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ شیخ راشد اسٹریٹ کو 2 دسمبر اسٹریٹ سے ملانے والے دو پلوں کی مجموعی لمبائی 2 ہزار میٹر ہے، جبکہ المجلیس اسٹریٹ سے 2 دسمبر اسٹریٹ کو ملانے والے پل بھی 2 ہزار میٹر طویل ہیں۔
دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق اس منصوبے سے زعبیل، السطوہ، الکرامہ، الجافلیہ اور المنخول سمیت مختلف علاقوں کے 5 لاکھ سے زائد رہائشیوں اور آنے والے افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ منصوبہ دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر جانے والے شہریوں کے لیے بھی آمدورفت آسان بنائے گا۔
نئے ٹریفک نظام میں گاڑیوں کو مختلف سمتوں میں جانے کے لیے پہلے ہی الگ کر دیا گیا ہے، جس سے ایک ہی مقام پر ٹریفک کے جمع ہونے کا مسئلہ کم ہونے کی توقع ہے۔ تاہم ڈرائیوروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جنکشن تک پہنچنے سے پہلے سائن بورڈز پر توجہ دیں اور اپنی منزل کے مطابق درست لین کا انتخاب کریں۔







