
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات: جائیداد کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 25 سے 35 سال کی عمر کے نوجوان پیشہ ور افراد بڑی تعداد میں پراپرٹی مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں اور اپنے گھر خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس رجحان کی بنیادی وجوہات میں بڑھتے ہوئے کرائے، رہن کی ماہانہ اقساط کا کرائے کے برابر آ جانا، گولڈن ویزا جیسے واضح طویل مدتی رہائشی آپشنز اور جائیداد کو مستقبل میں آمدن کا ذریعہ سمجھنا شامل ہے۔
ریئل اسٹیٹ ماہر اسماعیل الحمادی کے مطابق دبئی میں 35 سال سے کم عمر خریداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور نوجوان نسل اب گھر کی ملکیت کو اپنی طویل مدتی مالی منصوبہ بندی کا حصہ بنا رہی ہے۔ ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ ابتدائی کیریئر میں موجود خریدار، خاص طور پر 20 کی آخری اور 30 کی ابتدائی عمر کے افراد، مارکیٹ میں زیادہ سرگرم دکھائی دے رہے ہیں، جس کی وجہ حکومتی سہولیات، مارکیٹ میں اعتماد اور دبئی کا محفوظ و معیاری طرزِ زندگی ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومتی اصلاحات، شفاف نظام، ڈیجیٹل طریقہ کار اور جائیداد کے ساتھ منسلک رہائشی راستوں نے نوجوانوں کے لیے گھر خریدنے کے عمل کو آسان بنا دیا ہے۔ اسی طرح کرایوں میں مسلسل اضافے کے باعث بہت سے افراد کرائے اور رہن کی اقساط کا موازنہ کر رہے ہیں، جس کے بعد کئی علاقوں میں گھر خریدنا مالی طور پر زیادہ موزوں نظر آ رہا ہے۔
نوجوان خریدار عموماً اسٹوڈیو اور ایک بیڈروم اپارٹمنٹس کو ترجیح دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جو اچھی لوکیشن اور سہولیات رکھتے ہوں، جبکہ نوجوان جوڑوں اور نئی فیملیز میں ٹاؤن ہاؤسز کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 25 سے 35 سال کی عمر کا طبقہ آئندہ برسوں میں جائیداد کی مارکیٹ کی سمت متعین کرے گا اور یہی طبقہ مارکیٹ کی اگلی ترقی کا محرک بنے گا۔







