متحدہ عرب امارات

یو اے ای رہائشیوں کی نظر اب یورپ کے بجائے سستے اور ٹھنڈے مقامات پر، شینجن ویزا میں تاخیر کا اثر

خلیج اردو
دبئی: عید الاضحیٰ اور گرمیوں کی تعطیلات کے قریب آتے ہی متحدہ عرب امارات کے رہائشی اب یورپی ممالک کی بجائے سستے، ٹھنڈے اور ویزا کے لحاظ سے آسان مقامات کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ شینجن ویزا میں تاخیر، امریکی ویزے کے حصول میں مشکلات اور زیادہ بھیڑ سے بچنے کی کوشش نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

یو اے ای میں ٹریول ایجنسیاں اس وقت ان غیر روایتی اور ویزا فرینڈلی سیاحتی مقامات کے لیے بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھ رہی ہیں جو نہ صرف ٹھنڈے موسم کی سہولت فراہم کرتے ہیں بلکہ اخراجات کے لحاظ سے بھی معقول ہیں۔ سلالہ (عمان)، سعودی عرب کا عسیر ریجن، اور ایشیا، افریقہ اور مشرقی یورپ کے دلکش مقامات مثلاً بالی، جاپان، زنجبار، آذربائیجان، آرمینیا اور جارجیا سرفہرست انتخاب بن چکے ہیں۔

عید الاضحیٰ کے موقع پر یو اے ای میں 5 سے 8 جون تک چار روزہ تعطیلات متوقع ہیں، جبکہ جون سے اگست کے دوران اسکولوں کی گرمیوں کی چھٹیوں میں عام طور پر شہری یورپ جیسے برطانیہ، فرانس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم اس سال شینجن ویزا کے لیے اگست کے وسط تک اپوائنٹمنٹ دستیاب نہ ہونے اور امریکی ویزا میں بھی تاخیر نے ان منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔

ویگو کے چیف بزنس آفیسر مامون حمیدان نے بتایا کہ پچھلے سال کی نسبت اس بار غیر شینجن اور ٹھنڈے مقامات کی تلاش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، "آسان ویزا، کم کاغذی کارروائی اور فوری سفری منصوبہ بندی کی سہولت ان مقامات کی مقبولیت کا سبب ہے۔”

Musafir.com کی آپریشنز نائب صدر راشدہ زاہد نے بھی اس رجحان کی تصدیق کی، خاص طور پر ان مسافروں میں جو آخری لمحات میں سفر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "لوگ اب ایسے مقامات کا انتخاب کر رہے ہیں جہاں کا سفر آسان ہو، موسم خوشگوار ہو اور یورپی بھیڑ سے بچا جا سکے۔”

خطے کے اندر ٹھنڈے اور ویزا فرینڈلی مقامات کی مقبولیت
جی سی سی کے شہریوں کے لیے سعودی عرب کے عسیر اور ابہا جیسے مقامات، خاص طور پر حج کے بعد، اور عمان کا سلالہ خریف کے موسم میں خاصی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ مقامات آسان ای ویزا یا ویزا آن ارائیول کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

زنجبار، بالی، جاپان، نیپال اور دیگر ایشیائی و افریقی مقامات بھی اپنی سادہ ویزا پالیسیوں کی بدولت مقبول ہو رہے ہیں۔ جارجیا، آرمینیا، تاشقند (ازبکستان)، الماتے (قازقستان)، سری لنکا، ماریشس، سیشلز، ترابزون اور انطالیہ جیسے ترکی کے شہر بھی فطری مناظر، ساحلی خوشنمائی اور پہاڑی سکون کے باعث توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

بجٹ دوستانہ پیکیجز
راشدہ زاہد کے مطابق، ٹھنڈے مقامات کے لیے آل انکلوسو پیکیجز صرف 2200 درہم سے شروع ہوتے ہیں، جن میں پرواز، ہوٹل، ٹرانسفرز اور سیاحتی دورے شامل ہیں۔ مامون حمیدان نے بتایا کہ جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی اور قازبے جیسے پہاڑی علاقوں کی مانگ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہاں کا موسم خوشگوار ہے اور ویزا کی ضرورت نہیں۔ اوسط ہوائی ٹکٹ تقریباً 1375 درہم ہے۔ آرمینیا بھی ای ویزا یا ویزا فری داخلے اور کم خرچ (تقریباً 850 درہم) کی وجہ سے بجٹ مسافروں کے لیے موزوں ہے۔

آذربائیجان کا دارالحکومت باکو بھی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، جہاں شہری طرز زندگی اور بحیرۂ خزر کی ٹھنڈی ہوائیں دونوں کا امتزاج ملتا ہے۔

چھپے ہوئے گوہر تلاش کرنے کا رجحان
مسافر اب روایتی اور مصروف سیاحتی مقامات سے ہٹ کر کم معروف لیکن خوبصورت جگہوں کی طرف جا رہے ہیں۔ حمیدان کے مطابق، "زیادہ تر لوگ اب لچکدار اور ریفنڈ ایبل بکنگ کو ترجیح دے رہے ہیں اور بیک اپ کے طور پر ایسے مقامات کا انتخاب کر رہے ہیں جن کا ویزا آسانی سے دستیاب ہو۔”

راشدہ زاہد نے بتایا کہ ویزا اپوائنٹمنٹس کی محدود دستیابی کے باعث مسافر اب 4 سے 6 ماہ پہلے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں، خاص طور پر گرمیوں کی تعطیلات کے لیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button