
خلیج اردو
شارجہ: ہمریہ پورٹ میں ہفتہ کی صبح 8 بجے ایک فیول ویئرہاؤس میں شدید آگ بھڑک اٹھی جس سے آسمان پر سیاہ دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ آگ نے جلد ہی وہاں موجود انتہائی آتش گیر مواد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تاہم حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کے پھیلاؤ کو روک دیا۔
شارجہ پولیس کے کمانڈر انچیف اور لوکل ایمرجنسی، کرائسس و ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیم کے سربراہ میجر جنرل عبداللہ مبارک بن عامر نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ واقعے میں کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ فائر فائٹنگ کی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں اور اولین ترجیح انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید آلات سے لیس خصوصی ٹیمیں ہنگامی حالات کے اعلیٰ ترین پروٹوکولز کے تحت کارروائی کر رہی ہیں۔
میجر جنرل بن عامر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کردہ مصدقہ معلومات پر انحصار کریں اور افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے جیسے کارروائی آگے بڑھے گی، عوام کو تازہ ترین معلومات فراہم کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے شارجہ کے الصناعہ علاقے میں ایک پیٹروکیمیکل اور فائبر گلاس کے پلانٹ میں بھی آگ بھڑک اٹھی تھی جسے شارجہ سول ڈیفنس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو میں کر لیا تھا۔ اسی دن ابوظہبی کے مصفح صنعتی علاقے میں بھی ایک ویئرہاؤس میں آگ لگی تھی، تاہم وہاں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حکام نے ایک بار پھر یاد دہانی کروائی ہے کہ ہنگامی صورتحال میں صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کی جائیں اور غیر مصدقہ اطلاعات سے گریز کیا جائے۔







