
خلیج اردو
خطے میں عارضی فضائی حدود کی بندش کے باعث بیرونِ ملک پھنسے یو اے ای کے رہائشی اضافی اخراجات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، کئی افراد ادویات اور ملازمتوں کے حوالے سے پریشان ہیں۔
خطے میں عارضی طور پر فضائی حدود بند ہونے کے بعد بیرونِ ملک موجود متحدہ عرب امارات کے رہائشی تیسرے روز بھی سفری افراتفری کا سامنا کرتے رہے۔ باکو سے لے کر الماتے تک مختلف ہوائی اڈوں پر پروازوں کی منسوخی کے اعلانات ہوتے رہے اور مسافر غیر یقینی صورتحال میں پھنس گئے۔
متاثرہ مسافروں کا کہنا ہے کہ مختصر تعطیلات اور کاروباری دورے کئی دنوں کی تاخیر میں بدل گئے ہیں، جبکہ بعض افراد کے لیے یہ تاخیر محض تکلیف دہ نہیں بلکہ طبی ضروریات کے باعث تشویشناک بھی ہے۔
اینی فرنینڈز نامی رہائشی نے بتایا کہ وہ باکو میں گیارہ گھنٹے تک ہوائی اڈے پر انتظار کرتی رہیں مگر ایئرلائن کی جانب سے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ “ہم نے کال سینٹر، ای میل اور پیغامات کے ذریعے رابطہ کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔”
انہوں نے بتایا کہ انہیں اور ان کے شوہر کو قیام میں پانچ دن کی توسیع کرنا پڑی کیونکہ براہِ راست پروازیں مکمل طور پر بک تھیں۔ “جو ٹکٹ پہلے سات سو پچاس درہم میں مل رہا تھا وہ اب سولہ سو درہم سے زائد میں فروخت ہو رہا ہے۔”
الماتے میں پھنسے ہربریت سنگھ نے کہا کہ ان کا اتوار کی صبح دبئی واپسی کا پروگرام تھا مگر پرواز منسوخ ہو گئی۔ “ہم نے ہوٹل میں قیام بڑھایا جس پر فی جوڑا تین سو درہم روزانہ خرچ آ رہا ہے۔ اصل مسئلہ اخراجات سے زیادہ غیر یقینی صورتحال ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ دبئی کی پروازیں آٹھ مارچ تک منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ متبادل پروازوں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
آرمینیا میں کاروباری دورے پر موجود سیم پروکٹر نے کہا کہ وہ فی الحال دور سے کام کر رہے ہیں کیونکہ واپسی کی پرواز معطل کر دی گئی ہے۔ “ایئرلائنز خود بھی غیر یقینی کا شکار ہیں اور صرف یہ کہہ رہی ہیں کہ اگلے حکم تک پروازیں معطل ہیں۔”
کنشاسا میں موجود پچاس سالہ پوجا جوشی، جو کینسر کی مریضہ ہیں، نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی پریشانی ادویات کی دستیابی ہے۔ “میں روزانہ بارہ دوائیں لیتی ہوں، ایک بھی گولی نہیں چھوڑ سکتی۔ اگر دبئی واپس نہ جا سکی تو دہلی جانا واحد راستہ ہوگا۔”
دبئی کے رہائشی پریہ درشی پنی گراہی اور ان کی اہلیہ خوش قسمتی سے فضائی حدود کی بندش سے چند گھنٹے قبل واپس پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں میزائل روکنے کی آوازیں سنائی دیں اور پھر ہوائی اڈوں پر پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
متاثرہ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں اور غیر یقینی صورتحال ذہنی دباؤ کا باعث بن رہی ہے، تاہم وہ جلد پروازوں کی بحالی اور معمولات کی واپسی کے منتظر ہیں۔







