خلیج اردو
16 جنوری 2021
دبئی : کسی بھی ملک کے عدالتی نظام میں گواہ کی بہت اہمیت ہوتی ہے، گواہ کی وجہ سے انصاف کا یا تو خون ہوتا ہے یا بول بالا۔ایسے میں اگر گواہ بے ایمانی کرے یا عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے تو بلاشبہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے استعاثہ عام نے متنبہ کیا ہے کہ جھوٹی گواہی دینے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
ٹویٹر پر بیان میں عدالت کو گمراہ کرنے والوں کیلئے سزاؤں کی معلومات دیں ہیں۔ وفاقی پینل کوڈ کے آرٹیکل 253 کے مطابق جو بھی جھوٹی گواہی دے گا، اسے کم از کم تین مہینوں کیلئے جیل کی سزا ہو گی۔ جو کوئی عدالت کے ساتھ جھوٹ بولے گا یا حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرے گا یا عدالتی کارروائی کو انصاف کرنے سے متعلق اثرانداز ہوگا ، حقائق کو جھٹلائے گا ، اسے جیل کی سزا ہو گی۔ اس سے قطع نظر کہ اس کی گوہی سے کسی کو سزا ہوتی ہے یا نہیں ، اگر اس گواہی سے کسی کو سزائے موت ہوجاتی ہے یا کوئی بھی دوسری سزا ہوتی ہے تو گواہ کو جھوٹی گواہی کے پاداش میں وہی سزا سنائی جائے گی۔
False Testimony #law #legal_culture #PublicProsecution #SafeSociety #UAE #ppuae pic.twitter.com/0pBkEM1yQp
— النيابة العامة (@UAE_PP) January 15, 2021
یہ ٹویٹ استعاثہ کی جانب سے عوام میں اگاہی فراہم کرنے کیلئے کی گئی ہے۔
Source : khaleej Times







