
خلیج اردو
14نومبر 2021
دبئی : متحدہ عرب امارات نے بدھ کے دن کہا ہے کہ وہ دبئی فنانشل مارکیٹ میں سالک روڈ ٹول سسٹم کی تنصیب کرے گا۔
یو اے ای کے نائب وزیر اعظم اور دبئی کے نائب حاکم شیخ مکتوم بن محمد بن راشد المکتوم نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ دبئی میں بجیلی اور پانی اتھارٹی کے بعد اگلے مہینے سے دبئی روڈ ٹول سسٹم کو عوامی مقامات پر لگایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ دبئی میں کیپٹل مارکیٹس اور ایکسچینج کی ترقی کی کمیٹی میں ہم نے دبئی فنانشل مارکیٹ پر الیکٹرانک ٹول روڈ سسٹم سالک کی فہرست سازی کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ سالک ایک کامیاب پروجیکٹ ہے جس میں سرمایہ کاری کی بڑی صلاحیت ہے۔
شیخ مکتوم نے بتایا کہ حکومتی کمپنیاں جو اس مارکیٹ میں شامل ہیں ، ان کی وسعت کیلئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔
اس سے قبل حکومت نے مارکیٹ میں سرمایے کی ریل پھیل بڑھانے کیلئے دبئی فنانشل مارکیٹ میں رہاست کی سرپرستی میں کام کرنے والی 10 کمپنیوں کی فہرست بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اقدام کا مقصد دبئی کو خطے کے بڑے بازاروں کے مقابلے میں ایک زیادہ مسابقتی مارکیٹ بنانا ہے جو بڑی فہرستوں اور سرمایے کے مضبوط بہاؤ کو دیکھ رہے ہیں۔
مارکیٹ کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ دبئی حکومت وقت کے ساتھ باقی آٹھ ریاستی حمایت یافتہ کمپنیوں کے ناموں کا بھی انکشاف کرے گی۔
خلیج ٹائمز نے اپنے ذرائع کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ حکومت نے معروف برانڈز تیار کیے ہیں۔ ایمریٹس ایئر لائن، فلائی دبئی، ڈناٹا، روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے)، اینوک، اور جمیرہ دبئی فنانشل مارکیٹس میں شمولیت کیلئے ممکنہ امیدوار ہوں گے جو سرمایہ کاروں کو راغب کر سکتے ہیں۔
سالک ٹول سسٹم دبئی کے اعلیٰ سطح کے ڈھانچے کا اہم اثاثہ ہے۔ اس سسٹم کو آر ٹی اے نے 2007 میں متعارف کرایا تھا۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ٹریفک کے بہاؤ کو ہموار بنانا تھا۔
سالک کے اٹھ مرکزی گیٹ کو البرشا، الغرض، المکتوم، الممزار جنوبی، الممزار شمالی، الصفا، ایئرپورٹ ٹنل اور جبل علی پر نصب کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کے رش کو کم کرکے عوام میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کا رجحان بڑھایا جا سکے۔
سالک ٹول سسٹم میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد تین ملین ہے جن میں سے اٹھارہ ملین دبئی میں رجسٹرڈ ہیں۔
سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج ہائر کمیٹی کی حکمت عملی دبئی فنانشل مارکیٹ پر حکومتی اور سرکاری کمپنیوں کی فہرست بنانے کی کوشش کرتی ہے جس میں توانائی، لاجسٹکس اور ریٹیل سمیت مختلف شعبوں میں نئی فہرست سازی کو تیز کرنے کے علاوہ جدید مالیاتی ٹولز اور آلات کو اپنانا ہے۔
Source : Khaleej Times







