۔۔ متحدہ عرب امارات آٹھ ماحولیاتی اشاریوں میں 2020 کی عالمی مسابقت کی درجہ بندی میں غلبہ حاصل کررہا ہے جبکہ 19 میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں پہلے نمبر پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے وزیر ڈاکٹر عبد اللہ بلحیف النعیمی نے کہا کہ عالمی ماحولیاتی درجہ بندی میں متحدہ عرب امارات کا نمایاں مقام قومی قیادت کی مسلسل حمایت اور رہنمائی کا براہ راست نتیجہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ کامیابی قیادت کی رہنمائی میں وفاقی اور مقامی حکومت کے اداروں کے درمیان موثر تعاون اور نجی شعبے اور ماحولیاتی کام میں مہارت رکھنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ پیداواری شراکت داری کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماحول کی حفاظت، اپنے قدرتی وسائل کی پائیداری کو یقینی بنانا اور اپنے حیاتیاتی تنوع کا تحفظ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے اسٹریٹجک اہداف میں شامل ہے۔
ان ترجیحات کے حصول کے لئے وزارت نے اپنے دائرہ کار میں وسعت پیدا کرتے ہوئے ماحولیاتی ایک مربوط فریم ورک پر عمل درآمد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزارت نے قانون سازی کے ساتھ ساتھ ایسے منصوبے اور پروگرام تیار کئے ہیں جو اعلی ترین بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں۔ انسٹیٹیوٹ برائے مینجمنٹ ڈویلپمنٹ کے عالمی مسابقتی مرکز کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ برائے سال 2020 کے مطابق متحدہ عرب امارات اس وقت ماحولیاتی قوانین انڈیکس میں عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق متحدہ عرب امارات لیگاتم خوشحالی انڈیکس میں تحفظ کے اقدامات پر اطمینان کی کیٹیگری میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ اشاریے ملک کی آئندہ نسلوں کے لئے ماحول کو محفوظ رکھنے کی کوششوں پر اطمینان کا اظہارہے۔
دریں اثنا ماحولیاتی کارکردگی انڈیکس ، ای پی آئی میں SO2 کے اخراج میں کمی کی کیٹیگری میں متحدہ عرب امارات پہلے نمبر پر ہے۔ یہ اشاریے کئی سالوں میں SO2 کے اخراج میں کمی کا مظہر ہیں۔ ای پی آئی کے مطابق متحدہ عرب امارات عالمی سطح پر مقامی سالڈ فیول کے زمرے میں سرفہرست ہے۔ گذشتہ دو سالوں میں گھریلو افراد کی طرف سے گرم رکھنے اور کھانا پکانے کے لئے ٹھوس ایندھن کے استعمال میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماحولیاتی محاذ پر گھریلو ایندھن سے خارجہ ہونے والی آلودگی میں کمی کے تناظر میں ایک اہم جیت ہے۔ متحدہ عرب امارات نے میرین پروٹیکٹڈ ایریاز کیٹیگری میں اپنی عالمی پوزیشن برقرار رکھی ہے جس میں اب 16 سمندری محفوظ علاقوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ملک میں کل حفاظتی رقبے کا احاطہ 2019 میں 15.07 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں 15.53 فیصد ہو گیا ہے۔ ای پی آئی کے مطابق متحدہ عرب امارات 10 سال کے عرصے میں ویٹ لینڈز کے نقصان کی پیمائش کرنے والے عالمی وٹ لینڈز کے اشاریے میں سرفہرست ہے۔ متحدہ عرب امارات اپنی ویٹ لینڈز پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے جو معدومیت کمے خطرہ کے تحت حیاتیاتی تنوع کے لئے مقبول مقامات ہیں۔
ای پی آئی نے گراس لینڈز کے اشاریے میں بھی متحدہ عرب امارات کو پہلے نمبر پر رکھا ہے جو پانچ سال کے عرصے معدوم ہوتی چراگاہوں اور گھاس والے علاقوں کی اوسط کا حساب لگاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات مقامی پودوں کی ایسی اقسام کاشت کرنے کے لئے مستقل طور پر کام کرتا ہے جو ملک کی صحرائی آب و ہوا کو برداشت کرسکتی ہیں۔ ای پی آئی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا اور ایکو سسٹم سروسز میں بھی یہ ملک پہلے نمبر پر رہا۔ عالمی مسابقت کی درجہ بندی کے مطابق متحدہ عرب امارات 19 ماحولیاتی اشاریے کے لحاظ سے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں سرفہرست ہے۔
Source : WAM




