متحدہ عرب امارات

پاکستانی سرکاری و سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزہ چھوٹ کا اطلاق، تمام اماراتی ہوائی اڈوں پر نافذ العمل

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور پاکستان کے درمیان سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کیلئے ویزہ چھوٹ کا معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔

اسحاق ڈار کے مطابق، ان کی رواں ہفتے ابوظہبی میں یو اے ای کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات ہوئی، جہاں انہیں آگاہ کیا گیا کہ پاکستانی سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزہ چھوٹ کا اطلاق 25 جولائی 2025 سے ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزہ استثنیٰ کا معاہدہ جولائی کے آخری ہفتے میں ابوظہبی میں ہونے والے 12ویں پاکستان-یو اے ای جوائنٹ منسٹریل کمیشن اجلاس کے دوران طے پایا تھا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ "ابوظہبی میں 24 جون 2025 کو یو اے ای کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران ہم نے دونوں برادر ممالک کے درمیان سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزہ چھوٹ پر اتفاق کیا اور اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے، جو دستخط کے 30 روز بعد نافذ العمل ہونا طے پایا تھا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "یو اے ای حکام نے مجھے باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ پاکستانی سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزہ چھوٹ کا اطلاق 25 جولائی 2025 سے تمام اماراتی ہوائی اڈوں پر ہو چکا ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کے تحت باہمی بنیادوں پر یو اے ای کے سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے بھی پاکستان کے تمام ہوائی اڈوں پر ویزہ چھوٹ دی گئی ہے۔

پاکستان اور یو اے ای کے درمیان قریبی سفارتی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات ہیں۔ یو اے ای میں 17 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ہر سال لاکھوں پاکستانی سیاح خلیجی ریاست کا دورہ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے منصب سنبھالنے کے بعد متعدد بار یو اے ای کے دورے کیے ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ ویزہ چھوٹ کا اطلاق صرف سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز پر ہو گا، عام پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے یہ سہولت میسر نہیں ہو گی

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button