متحدہ عرب امارات

ال نینو کے باعث متحدہ عرب امارات میں نمی اور بارش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، ماہرین موسمیات

خلیج اردو
ہزاروں کلومیٹر دور بحرالکاہل میں تشکیل پانے والا موسمیاتی مظہر ال نینو آئندہ مہینوں میں متحدہ عرب امارات کے موسم پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ عالمی محکمہ موسمیات کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ال نینو کے مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس کے فوری اثرات متحدہ عرب امارات میں محسوس نہیں ہوں گے، تاہم موسم خزاں، خصوصاً اکتوبر اور نومبر کے دوران فضا میں نمی، بادل بننے اور بارش کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

قومی مرکز برائے موسمیات کے ماہر احمد حبیب نے بتایا کہ ال نینو ایک عالمی موسمیاتی نظام ہے، تاہم اس کے اثرات ہر خطے میں مختلف ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی ایشیا کے کئی ممالک، جن میں چین، جاپان، فلپائن اور مشرقی بھارت شامل ہیں، حالیہ مہینوں میں طوفانوں اور شدید موسمی سرگرمیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بحیرۂ ہند کے مغربی حصے اور متحدہ عرب امارات میں اس سال ایسی سرگرمیاں دیکھنے میں نہیں آئیں۔

احمد حبیب کے مطابق مئی اور جون کے دوران عالمی موسمی تبدیلیوں کے باوجود متحدہ عرب امارات میں فضا نسبتاً خشک رہی، کیونکہ بارش کے لیے درکار مقامی موسمی عوامل موجود نہیں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کے موجودہ موسم میں ال نینو کے اثرات محدود رہیں گے، تاہم خزاں میں اس کا اثر نمایاں ہو سکتا ہے، جس سے فضا میں نمی بڑھے گی، بادل بننے کے امکانات زیادہ ہوں گے اور مختلف علاقوں میں بارش ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو سے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ متوقع نہیں، تاہم نمی بڑھنے کے باعث موسم زیادہ حبس زدہ محسوس ہو سکتا ہے۔

احمد حبیب نے بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کو بھی ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں بارش کا امکان موجود ہے، جبکہ ابوظبی کے اندرونی علاقوں، بشمول سویحان اور مدینۃ زاید، میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم گرما میں متحدہ عرب امارات میں ابھی تک درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک نہیں پہنچا۔ آئندہ چند روز کے دوران اندرونی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 47 سے 49 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ساحلی علاقوں میں 41 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button