متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں سونے کے سکوں اور بسکٹس کی خریداری میں اضافہ، زیورات کی مانگ میں کمی

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں صارفین سونے کے زیورات کے بجائے بسکٹس اور سکوں کی خریداری کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 کی دوسری سہ ماہی میں یو اے ای میں سونے کے زیورات کی طلب سال بہ سال 16 فیصد کم ہو کر 7.7 ٹن رہ گئی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 9.2 ٹن تھی۔ زیورات کی کھپت میں یہ مسلسل دوسری سہ ماہی کمی ہے۔

اس کے برعکس سونے کے بسکٹس اور سکوں کی طلب میں سالانہ بنیادوں پر 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو 2025 کی دوسری سہ ماہی میں 4.1 ٹن رہی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ طلب 3.3 ٹن تھی۔ سہ ماہی بنیادوں پر طلب میں 31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اب فزیکل گولڈ ایسٹس میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔

اگرچہ سرمایہ کاری کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، مجموعی طور پر یو اے ای میں سونے کی کھپت 5 فیصد سالانہ کمی کے ساتھ 11.8 ٹن رہی۔ تاہم پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں اس میں 7.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای میں سونے کی قیمتیں گزشتہ ایک سال میں تقریباً 100 درہم فی گرام بڑھ چکی ہیں۔ یہ اضافہ عالمی سطح پر قیمتوں کے بڑھنے، جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں، تجارتی محصولات اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری کے باعث ہوا ہے۔

دوسری سہ ماہی کے دوران 24 قیراط سونا مستقل 400 درہم فی گرام سے زائد قیمت پر فروخت ہوتا رہا۔ جمعرات کی صبح دبئی میں 24 قیراط سونا 397.5 درہم فی گرام پر فروخت ہو رہا تھا۔ دیگر اقسام میں 22 قیراط 368 درہم، 21 قیراط 353 درہم اور 18 قیراط 302.5 درہم فی گرام پر دستیاب تھا۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق دوسری سہ ماہی میں سونے کی اوسط قیمت سالانہ بنیادوں پر 40 فیصد بڑھ کر 3,280 ڈالر فی اونس رہی جو گزشتہ سال اسی مدت میں 2,338 ڈالر تھی۔

ریکارڈ قیمتوں کے باعث صارفین سونے کے بسکٹس اور سکوں کو سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دے رہے ہیں جبکہ ذاتی استعمال کے لیے 18 قیراط سونے کے زیورات خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ خوبصورتی اور لاگت کے درمیان توازن رکھا جا سکے۔

ورلڈ گولڈ کونسل کے مشرق وسطیٰ کے سربراہ اینڈریو نیلر نے کہا کہ دوسری سہ ماہی میں مشرق وسطیٰ میں سونے کی طلب عالمی رجحانات کے مطابق رہی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں زیورات کی کھپت سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد کم ہوئی ہے کیونکہ بلند قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام نے صارفین کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں بسکٹس اور سکوں کی سرمایہ کاری میں 4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ یو اے ای میں یہ اضافہ نمایاں رہا کیونکہ مقامی سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں تھے۔

اینڈریو نیلر نے کہا کہ 2025 کی دوسری ششماہی میں بھی سونا اپنی کشش برقرار رکھے گا تاہم قیمتیں بلند رہنے کی وجہ سے زیورات کی طلب دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے۔

عالمی سطح پر دوسری سہ ماہی میں سونے کی کل طلب سالانہ 45 فیصد اضافے کے ساتھ 132 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ ورلڈ گولڈ کونسل کی رپورٹ کے مطابق "سرمایہ کاروں کی طلب بنیادی محرک رہی، جبکہ مرکزی بینکوں کی خریداری بھی مضبوط رہی۔ زیورات کی مقدار میں کمی کے باوجود بلند قیمتوں کے باعث اس کی مجموعی قدر میں اضافہ ہوا۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button