
خلیج اردو
ابوظبی:متحدہ عرب امارات میں عید الاتحاد کی 54ویں سالگرہ کے موقع پر طویل عرصے سے بیماری میں مبتلا 54 بچوں کی خواہشیں پوری کر دی گئیں، جس سے درجنوں خاندانوں کے چہروں پر خوشی لوٹ آئی۔ انہی بچوں میں ایک تھا محمد انور، جس کی والدہ فاتن ریاض ابو نہلہ نے 12 برس بعد ماں بننے کی خوشی پائی تھی، مگر بچے کی پیدائش پر نایاب بیماری کی تشخیص نے ان کی آزمائش کو دو چند کر دیا۔
محمد کو پیدائش کے فوراً بعد ریڑھ کی ہڈی، ٹانگ اور اندرونی اعضاء کی پیچیدگیوں کے باعث ہنگامی سرجری کی ضرورت پڑی اور اسے راس الخیمہ سے براستہ منتقلی الشارجہ کے القاسمی اسپتال لے جایا گیا۔ فاتن کا کہنا تھا کہ مشکل حالات کے باوجود وہ شکر گزار ہیں کہ بچے کی ذہنی صلاحیتیں محفوظ ہیں، جو انہیں حوصلہ دیتی ہیں۔
محمد انور بھی میک اے وِش یو اے ای کی جانب سے خواہش پوری کرنے والوں میں شامل تھا۔ فاتن کے مطابق اس مہم نے دلجوئی کی اور احساس دلایا کہ آزمائش میں مبتلا دیگر خاندان بھی موجود ہیں، جس سے صبر اور شکر کے جذبات مضبوط ہوتے ہیں۔
اس موقع پر میک اے وِش یو اے ای نے مختلف بیماریوں میں مبتلا 54 بچوں کی خواہشیں پوری کیں۔
جاپان کا سفر، نیا آئی فون
اماراتی بچے سلطان، جو آٹھ برس کی عمر سے ذیابیطس میں مبتلا ہے، کی خواہش تھی کہ وہ جاپان کا سفر کرے۔ اس کی خواہش یونیورسل اسٹوڈیوز جاپان میں سپر نِنٹینڈو ورلڈ دیکھنے کی تھی، جو اینیمی اور ویڈیو گیمز سے اس کی محبت کی عکاس ہے۔ والدہ کا کہنا تھا کہ بیماری کی تشخیص کے بعد آغاز میں خوراک اور انجیکشن سے متعلق بچے کو سمجھانا مشکل تھا، مگر ایک تمنّا نے اسے امید دے دی۔
12 سالہ احمد نے اپنی خواہش بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا آئی فون چاہتا ہے جس کے ذریعے گھر پر ہنگامی صورتحال میں والدین سے رابطہ کر سکے۔ اس نے اپنا مرض بہتر کنٹرول کرنے کے لیے ایپل واچ کی خواہش بھی ظاہر کی تاکہ گلوکوز لیول کو آسانی سے مانیٹر کر سکے۔
ہانی الزبیدی کا پیغام
میک اے وِش فاؤنڈیشن یو اے ای کے سی ای او ہانی الزبیدی نے بتایا کہ 2010 سے اب تک خطے میں 7,950 سے زائد بچوں کی خواہشیں پوری کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق خواہش پوری کرنا محض تحفہ دینا نہیں بلکہ بیماری سے لڑتے بچوں کی روحانی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاج جسمانی اور جذباتی دونوں پہلو رکھتا ہے، جبکہ خوشی کے لمحات روح کو شفا دیتے ہیں۔
اس سال خواہش پوری کرنے والے بچوں کی عمریں چار سے اٹھارہ برس تک تھیں۔ ہانی الزبیدی کے مطابق ایسے اجتماعات میں ایک بیمار بچے کو دوسرے کی ہمت دیکھ کر خود بھی حوصلہ ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 90 فیصد سے زائد بچے خواہش پوری ہونے کے بعد زیادہ خوش، پُرجوش اور بہتر محسوس کرتے ہیں، کیونکہ خوشی ان کے جذبۂ حیات کو مضبوط کر دیتی ہے۔
UAE fulfils 54 wishes for 54 chronically ill children on 54th Eid Al Etihad







