متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں اب پیچیدہ اعضاء کی پیوندکاری کامیابی سے ہو پائے گی

خلیج اردو
21 دسمبر 2020
ابوظبہی : متحدہ عرب امارات جہاں دنیا بھر میں ترقی کے حوالے سے اپنا امتیازی مقام رکھتا ہے وہاں امارات کا نظام صحت بھی اپنی مثال آپ ہے۔ حال ہی میں ابوظبہی کے ایک اسپتال میں ڈاکٹروں نے آپریشن کے دوران لبلبے کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا ہے۔ یہ متحدہ عرب امارات کا سب سے پہہلا ٹرانسپلانٹ ہے۔

گزشتہ 20 سالوں میں یہ پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ آپریشن کے بعد مریض کا جسم انسولین بنا رہا ہے۔

خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے اس آپریشن کی روح روح ڈاکٹر سرجن لیوئس کمپوس کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں لبلبے کی پیوند کاری کی شروعات سے بہتر طور پر زندگی میں نمایاں تبدیلی لانے کی صلاحیت ہے۔ اب ہم زندگی کو بچانے والے گردوں کے ٹرانسپلانٹ کو زندگی کو تبدیل کرنے والے لبلبے کے ٹرانسپلانٹ کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں جو ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ انسولین کے انجیکشنوں سے آزاد کرتا ہے۔ جو مریض روزانہ انسولین ٹیکے لگانے کی ضرورت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ان کیلئے انسولین سے آزادی کا احساس واقعی گہرا ہوسکتا ہے ،

ابوظبہی کا کلیولینڈ کلنک ان دو نایاب پیونکاریوں کے حوالے سے اب تل 100 اعضاء کی کامیاب پیوندکاری سے متعلق آپریشن کر چکا ہے۔

ٹائپ 2 ذیابیطس موٹاپا جیسے طرز زندگی کے عوامل سے منسلک ہے جبکہ ٹائپ 1 اس وقت ہوتا ہے جب جسم کا مدافعتی نظام لبلبے میں موجود ان خلیوں پر حملہ کرتا ہے جو انسولین تیار کرتے ہیں۔ یہ حالت عام طور پر بچپن میں پیش آتی ہے اور پوری دنیا میں ذیابیطس کے 5 فیصد مریضوں کو متاثر کرتی ہے۔

ڈاکٹر کمپوس کہتے ہیں کہ لبلبے کی پیوند کاری بہت پیچیدہ عمل ہے جس کیلئے سرجری ہونے سے پہلے بہت ساری تشخیص کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹائپ 1 ذیابیطس کے زیادہ تر مریض انسولین کے انجیکشنوں کا استعمال کرکے اپنے بلڈ شوگر کا انتظام کرسکتے ہیں۔ تاہم اگر انھیں گردے کی بیماری لاحق ہوتی ہے جو اس مقام تک بڑھتا ہے جس میں انھیں ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے تو اس عمل کو لبلبہ کے ٹرانسپلانٹ کے ساتھ جوڑ کر واقعی ان کی زندگی میں تبدیلی آسکتی ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button