متحدہ عرب امارات

یو اے ای کی قیادت میں ویتنام میں ایک ارب ڈالر کا اے آئی منصوبہ

خلیج اردو
ابوظہبی میں قائم G42 کی قیادت میں ایک کنسورشیم ویتنام میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس کنسورشیم میں ویتنام کی FPT کارپوریشن اور ویت تھائی گروپ شامل ہیں۔

منصوبے کا مقصد ویتنام کو ایک AI-نیٹو معاشرہ بنانے اور جنوب مشرقی ایشیا میں ایک نمایاں اے آئی مرکز کے طور پر ابھارنا ہے۔ معاہدے کے تحت ملک میں تین مختلف مقامات پر ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جہاں اعلیٰ کارکردگی کی اے آئی اور کلاؤڈ سروسز فراہم کی جائیں گی۔

اس شراکت داری میں انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر اے آئی مہارت اور افرادی قوت کی تربیت کے پروگرام بھی شامل ہیں، تاکہ سرکاری اداروں، صنعت اور تعلیمی شعبے میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔

G42 انٹرنیشنل کے چیف کمرشل آفیسر علی الامین کا کہنا ہے، “یہ معاہدہ قومی اے آئی تبدیلی کا نیا ماڈل ہے، جو خودمختاری، شراکت داری اور مقصد پر مبنی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا، “ہم ویتنامی حکومت کے وژن اور اپنے شراکت داروں کے شکر گزار ہیں، جو ڈیٹا خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے اے آئی کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔”

FPT کارپوریشن کے چیئرمین ڈاکٹر ٹرونگ جیا بنھ کے مطابق، “ویتنام جانتا ہے کہ اے آئی، سیمی کنڈکٹرز اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار ضروری ہیں۔”

ویت تھائی گروپ کے چیئرمین ڈیوڈ تھائی نے کہا، “یہ اقدام ویتنام کو ایشیا میں اے آئی پر مبنی معاشی ترقی کی صفِ اول میں لے آئے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button