
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی جانب سے غزہ کے فلسطینی عوام کے لیے جاری انسانی امدادی مہم ’’آپریشن شیولرس نائٹ 3‘‘ نے مسلسل امدادی سرگرمیوں کے 1000 دن مکمل کرلیے۔
یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایات پر شروع کیے گئے اس آپریشن کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران سے متاثرہ فلسطینیوں کی مدد اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہے۔
یو اے ای کے مطابق آپریشن کے تحت اب تک 3.89 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی انسانی امداد فراہم کی جاچکی ہے جس میں 1 لاکھ 26 ہزار ٹن سے زیادہ خوراک، طبی سامان اور دیگر ضروری امدادی اشیا شامل ہیں۔
امدادی سامان غزہ پہنچانے کے لیے 770 سے زائد پروازیں، 25 بحری جہاز اور 13 ہزار سے زیادہ ٹرک استعمال کیے گئے۔
طبی امداد بھی آپریشن کا اہم حصہ رہی ہے۔ غزہ میں قائم یو اے ای فیلڈ اسپتال، اس سے منسلک طبی مراکز اور مصر کے شہر العریش میں قائم یو اے ای فلوٹنگ اسپتال کے ذریعے 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاچکا ہے۔
ان طبی مراکز میں مختلف سرجریز، خصوصی طبی خدمات اور بحالی کا علاج فراہم کرنے کے علاوہ غزہ میں طبی سہولیات کی استعداد بڑھانے کے لیے نئے مراکز بھی قائم اور چلائے گئے۔
غزہ کے ان علاقوں تک امداد پہنچانے کے لیے جہاں زمینی راستے سے رسائی ممکن نہیں ’’برڈز آف گڈنس‘‘ کے نام سے امدادی سامان فضائی راستے سے بھی گرایا گیا۔
اس پروگرام کے تحت 81 فضائی امدادی مشنز کے ذریعے 4 ہزار ٹن سے زیادہ انسانی امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچایا گیا۔
یو اے ای کے مطابق امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ طویل مدتی بحالی کے منصوبوں پر بھی کام کیا گیا۔ ان میں خودکار بیکریوں کے ذریعے غذائی تحفظ کو بہتر بنانا، صاف پانی کی فراہمی کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹس اور پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک قائم کرنا جبکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کی معاونت شامل ہے۔
آپریشن کے تحت ’’Step of Hope‘‘ پروگرام بھی جاری ہے جس میں جسمانی اعضا سے محروم افراد کے لیے مصنوعی اعضا تیار اور نصب کرنے کے ساتھ بحالی کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ متاثرہ افراد دوبارہ نقل و حرکت کے قابل ہوسکیں اور ان کے معیار زندگی میں بہتری آئے۔
یو اے ای کا کہنا ہے کہ آپریشن شیولرس نائٹ 3 ہنگامی امداد سے آگے بڑھ کر بحالی اور انسانی ترقی کے اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور اس کا مقصد فلسطینی عوام کی مدد کے ساتھ انسانی وقار اور یکجہتی کو برقرار رکھنا ہے۔







