
خلیج اردو
دبئی: خلیج ٹائمز کی KT+150 فہرست میں اس بار کھانے پینے کے شعبے میں شامل ہونے والی کہانی نے سب کو متاثر کیا ہے۔ صرف 17 سال کی عمر میں عبدالرحمن اور مائتہ الہاشمی نہ صرف متحدہ عرب امارات کے کم عمر ترین سرٹیفائیڈ شیفس قرار پائے ہیں بلکہ انہوں نے اماراتی کھانوں کو عالمی ذائقوں کے ساتھ جوڑ کر اپنی شناخت قائم کی ہے۔
ان اماراتی جڑواں بہن بھائیوں نے محض 13 سال کی عمر میں کلینری آرٹس میں پروفیشنل ڈپلومہ حاصل کر لیا تھا۔ چھ سال کی عمر میں آملیٹ اور سادہ کھانوں سے آغاز کرنے والے یہ کم عمر شیفس آٹھ سال کی عمر تک خود اعتماد کے ساتھ کھانا پکانے لگے۔ ان کی دلچسپی والدین کے ناشتے اور دادی کے روایتی پکوانوں سے متاثر ہو کر شروع ہوئی۔
ان کے کیریئر کا سب سے نمایاں لمحہ اس وقت آیا جب انہیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ امارات کے موقع پر صدرِ مملکت شیخ محمد بن زاید النہیان کے لیے اسٹیٹ ڈنر کا خصوصی مینو تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اماراتی اور امریکی ذائقوں کے امتزاج پر مبنی یہ تخلیق ان کے لیے ایک اعزاز اور صلاحیت کا زبردست اعتراف تھا۔
اس کے بعد عبدالرحمن اور مائتہ نے اماراتی کھانوں کو جدید انداز دینے کے سفر کو جاری رکھا۔ شارجہ لائٹ فیسٹیول کے دوران ناپولی پاپ اَپ پیزیریا سے لے کر مختلف ریسٹورنٹس کے ساتھ اشتراک تک، ان کی محنت میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ @uae_twin_chefs بیس ہزار کے قریب فالوورز کے ساتھ ایک فعال پلیٹ فارم ہے جہاں وہ ریسیپیز اور پروجیکٹس شیئر کرتے ہیں۔
نامور شاعر اور ادیب ڈاکٹر شِہاب غانم کے نواسے نواسی ہونے کے ناطے یہ جڑواں شیفس خاندان کی تخلیقی روایت کو بھی آگے بڑھا رہے ہیں۔ KT+150 فہرست میں شامل ہو کر انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ عمر جدت اور مستقبل تراشنے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔







