خلیج اردو آن لائن: دبئی کی ابتدائی عدالت نے سوموار کے روز آٹھ سالہ بچی کو غیر مناسب طریقے سے چھونے کے الزام میں ایک لوہار کو تین ماہ قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے مجرم کو جیل کی مدت پوری کرنے کے بعد ملک بدر کرنے کا حکم بھی سنایا۔
33 سالہ پاکستانی باشندہ لڑکی کے والدین کے گھر رہائش پذیر تھا، جہاں اس نے لڑکی کو دو بار نازیبا طریقے سے چھوا۔
لڑکی کی ماں نے گواہی دی ہے کہ جس گھر میں مدعاعلیہ رہائش پذیر تھا اسی گھر میں ان لوگوں نے ایک کمرہ اور کچن کرائے پر لے رکھا ہے۔ واقعہ کے دن اس بیٹی کچن میں کچھ کھانے کےلیے گئی تو مدعاعلیہ بھی اس کے پیچھے کچن میں چلا گیا۔
35 سالہ پاکستانی ماں کا مزید کہنا تھا کہ” جب میں نے اسے دیکھا تو میں بھی اس کے پیچھے کچن میں چلی گئی۔ اس پر مدعاعلیہ میں مجھ سے معافی مانگی اور وہاں سے چلا گیا۔ وہ شراب کے نشے میں تھا۔ میری بیٹی بہت پریشان تھی اور اسنے بتایا کہ مدعا علیہ نے اسے کچھ نہیں کہا، لیکن وہ کھانا کھائے بغیر چلی گئی”۔
تاہم، اس واقعے کے آدھے گھنٹے بعد ماں نے دوبارہ بیٹی سے پوچھا تو رونے لگی اور ماں کو بتایا کہ مدعا علیہ نے اس کے جسم کو چھوا اور کہا کہ اپنے والدین کو کچھ نہ بتائے۔ ماں کا کہنا تھا کہ ” اس کی بیٹٰی نے اسے بتایا کہ اس واقعہ سے ایک دن پہلے جب وہ صحن میں کھیل رہی تھی تب بھی مدعا علیہ نے اسے چھوا تھا”۔
دبئی پولیس کو اطلاع ملنے پر پولیس نے مجرم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس اہلکار نے گواہی دی ہے کہ جب وہ مجرم سے بات کرنے کے لیے گیا تو وہ اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا۔ پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ” میں نے اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہا تو اس نے انکار کر دیا، وہ شراب کے نشے میں تھا اور میں اسے تھانے لے آیا”۔
تاہم دبئی پولیس پراسیکیوشن نے مدعا علیہ پر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور غیر قانونی طور پر شراب نوشی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
Source: Gulf News







