متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں میڈیا کی نگرانی اور فروغ کے لیے نیا نظام، خلاف ورزی پر 20 لاکھ درہم تک جرمانہ

خلیج اردو
دبئی – متحدہ عرب امارات کی میڈیا کونسل نے میڈیا کے شعبے کو منظم، بااختیار اور ترقی دینے کے لیے ایک جامع نظام متعارف کرا دیا ہے۔ اس کا اعلان جمعرات کے روز دبئی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔

اس نئے نظام کے تحت جلد ایک پلیٹ فارم بھی قائم کیا جائے گا جس کے ذریعے عوام میڈیا مواد کی نگرانی میں حصہ لے سکیں گے۔ یہ فریم ورک گزشتہ دو برسوں میں جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد ریاست کے پیغام کو مؤثر انداز میں عام کرنا ہے۔ اس میں میڈیا کاروبار، خلاف ورزیوں، اور تخلیق کاروں و جدت طرازوں کے لیے استثنیٰ سمیت مختلف ریگولیٹری فیصلے شامل ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب افراد بھی مخصوص شرائط و ضوابط کے تحت میڈیا اداروں اور چینلز کے مالک بن سکیں گے۔ یہ گزشتہ چالیس برس میں میڈیا سے متعلق جاری ہونے والا پہلا ریگولیٹری قانون ہے، جو افراد اور اداروں کے میڈیا سے متعلق تمام امور کو منظم کرتا ہے۔

نئے ضوابط کے تحت 20 نئے معیارات متعارف کرائے گئے ہیں، جن کا مقصد قومی شناخت کا تحفظ اور اشتہارات کے لیے قواعد و ضوابط کا تعین ہے تاکہ تمام میڈیا ادارے مواد کے رہنما اصولوں کی پابندی کریں۔

یہ قانون گمراہ کن مواد کی اشاعت پر پابندی لگاتا ہے، اشتہارات اور مواد میں فرق واضح رکھنا ضروری بناتا ہے، اور صحت جیسے حساس شعبوں میں غیر مجاز مواد کی اشاعت پر پابندی عائد کرتا ہے۔

خلاف ورزیوں پر انتظامی سزاؤں میں انتباہ، اور ایک لاکھ درہم سے لے کر ایک ملین درہم تک جرمانہ شامل ہے۔ بار بار خلاف ورزی کی صورت میں یہ جرمانہ دوگنا ہو کر دو ملین درہم تک جا سکتا ہے۔

دیگر سزاؤں میں لائسنس، اجازت ناموں اور سرکاری منظوریوں کی منسوخی بھی شامل ہو سکتی ہے، جو افراد یا اداروں کو جاری کی گئی ہوں۔

اس کے علاوہ، میڈیا کونسل نے مقامی مواد کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک مراعاتی نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس میں مقامی مصنفین، تخلیق کاروں، سینما اور تھیٹر کی مقامی پیداوار کو مختلف استثنیات دی جائیں گی۔ اشاعت، سینما، اور الیکٹرانک گیمز کے لیے خصوصی پیکجز، اور چھوٹے سینما گھروں کی کاروباری ترقی کے لیے الگ زمروں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

یہ نیا ریگولیٹری فریم ورک ایک جدید قانون سازی اور سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کرے گا، جو میڈیا کے تمام شعبوں کو منظم کرے گا اور مقامی مواد کی تخلیق کو فروغ دے گا تاکہ وہ قومی معیار کے مطابق ہو۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button