خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے کلچرل، نسلی اور مذہبی نفرت کا باعث بننے والے مواد کو رکھنے اور آگے پھیلانے کے جرم پر ہونے والی سزاؤں کے حوالے سے رہائشیوں کو وارننگ جاری کی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں پبلک پراسیکوشن کی جانب سے امتیاز اور نفرت کو روکنے کے لیے یو اے ای 2015 کے وفاقی قانون نمبر 2 کی دفعہ 12 کی وضاحت کی گئی ہے۔
ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت "نفرت پر اکسانے والے مواد کو اپنے پاس رکھنا، شائع کرنا اور ریکارڈ ایک قابل سزا جرم ہے”۔ اور اس جرم کا مرتکب ہونے کیصورت میں 1 سال قید کی سزا اور 50 درہم سے لے 2 لاکھ درہم تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
ویڈٰیو میں مزید بتایا گیا ہےکہ نفرت پھیلانے والی، مذہب کے خلاف مواد اور نفرت پرمشتمل، دستاویزات، پبلکیشنز، سی ڈیز، ریکارڈنگز، سافٹ ویئر اور اسمارٹ اپلیکیشنز رکھنا اور یا حاصل کرنا بھی قابل سزا جرم ہے۔
حيازة وتوزيع محررات ومطبوعات وتسجيلات بقصد إثارة خطاب الكراهية جريمة يعاقب عليها القانون#قانون #ثقف_نفسك #ثقافة_قانونية #خلك_حكيم #الامارات #الامارات_العربية_المتحدة #النيابة_العامة_الاتحادية pic.twitter.com/K2XL7ofZXz
— النيابة العامة (@UAE_PP) December 19, 2020
اور درج بالا جرائم کا مرتکب ہونے میں سہولت کار(یعنی ریکارڈنگ، سی ڈی، دستاویزات یا دیگر ذرائع کے حصول اور پرموشن کے درکار ذرائع رکھنے یا حاصل کرنے والے) کا کردار ادا کرنے والے شخص کو بھی وہی سزا دی جائے گی جو جرم کرنے والے کو دی جائے گی۔
پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ وہ یو اے ای رواداری کی ثقافت کے فروغ کا خواہشمند ہے اور پبلک پراسیکیوشن ہر قسم کے مذہبی، نسلی اور ثقافتی امتیاز کے خلاف کاروائی جاری رکھے گا۔
Source: Khaleej Times







