
خلیج اردو
ابوظبہی: کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ پانی کے نیچے چلتے ہوئے کسی خونخوار شارک سے نظریں ملائی جائیں، مگر کسی حملے، کاٹنے یا نگلے جانے کا کوئی خوف نہ ہو؟ سی ورلڈ ابوظہبی کے وسیع و عریض اینڈلیس اوشَن ایکویریم میں ایسا ہی پرجوش مگر محفوظ تجربہ پیش کیا جاتا ہے۔
‘سی وینچر’ نامی یہ بے وزنی جیسا پیدل سفر مہمانوں کو براہِ راست ہتھوڑے جیسے سر والی شارک، بلیک ٹِپ ریف شارک، مانٹا رے اور رنگ برنگی مچھلیوں سے روبرو کرتا ہے۔ ہم نے ڈائیونگ سوٹ اور آکسیجن ہیلمٹ پہن کر ٹھنڈے شفاف پانی میں سیڑھی کے ذریعے اترنا شروع کیا، جہاں ایک ماہر غوطہ خور نے اشاروں سے ہمیں نیچے رہنمائی دی۔
ہمارے گرد 2 کروڑ 50 لاکھ لیٹر نمکین پانی زندگی سے بھرپور تھا۔ مچھلیوں کے جھنڈ پردوں کی طرح ہم آہنگی سے تیرتے رہے۔ عظیم مانٹا رے اوپر خلا میں اڑتے جہاز کی مانند گزرتے، پھر ہتھوڑہ نما سر والی شارک آئیں جو سنسنی خیز مگر پُروقار انداز میں گہرائی کا سینہ چیرتی نظر آئیں۔
کبھی کبھی ہاتھ بڑھا کر کسی پر پھسلتی مخلوق کو چھونے کی خواہش ہوتی، مگر کوئی اتنا قریب نہ آیا۔ اس بارے میں سی ورلڈ ابوظہبی کے نائب جنرل منیجر کارلوس روڈریگیز نے بتایا، "یہ اس لیے ہے کہ یہ جانور انسانوں کے ارد گرد ہونے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ جیسے کوئی شاپنگ مال میں چہل قدمی کرتا ہے، اور کسی پر خاص توجہ نہیں دیتا۔”
اسی دوران، لوئس نامی مانٹا رے، جسے ایکویریم کا محبوب جانور سمجھا جاتا ہے، شاہی جلوس کی مانند اپنے ہمراہ چھوٹی مچھلیوں کے ساتھ ہمارے سامنے سے گزرا۔ سطحِ آب کے نیچے مکمل خاموشی تھی—صرف آکسیجن کی سرسراہٹ اور مچھلیوں کی دموں کی سنسناہٹ۔ یہ احساس نہ ہوا کہ ہم یہاں اجنبی ہیں، بلکہ ایسا لگا جیسے ہمیں خوش آمدید کہا گیا ہو۔
سی وینچر صرف ایک مہم جوئی نہیں، بلکہ یہ پارک کے ‘ون اوشَن’ نظریے کا عملی اظہار ہے۔ روڈریگیز نے وضاحت کی، "ون اوشَن ہمارے تمام اقدامات کا مرکز ہے۔ یہاں سے مہمان اپنی پسند کی مہم کا آغاز کرتے ہیں، چاہے وہ 24 میٹر گہرے اینڈلیس اوشَن کا حیرت انگیز ایکویریم ہو، یا راکی پوائنٹ جہاں کیلی فورنیا کے سی لایَنز موجود ہیں، یا برفانی سمندر جہاں قطب شمالی اور جنوبی کی الگ دنیا ہے۔”
تفریح سے ہٹ کر، یہ پارک ایک مکمل سمندری اسپتال اور بحالی مرکز بھی رکھتا ہے۔ روڈریگیز نے کہا، "ریلنگ کے پار ہمارا اسپتال ہے، جانوروں کی دیکھ بھال کا مرکز، جسے ہم پارک کی دھڑکن کہتے ہیں۔”
سینئر زوالوجیکل ایجوکیشن منیجر جینیفر شیفر نے صحافیوں کو اس مرکز کا دورہ کرایا۔ "یہاں کوئی پردہ پوشی نہیں، آپ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں،” انہوں نے شیشے کی دیواروں والے کلینکس کے سامنے بتایا۔ "کچھ آپریشن دیکھنے میں خوشنما نہیں ہوتے، مگر مہمانوں کو یہ سب دکھانا ضروری ہے تاکہ وہ سیکھیں۔”
ہر رہائشی جگہ میں قدرتی ماحول کی نقل کے لیے خاص UVA اور UVB روشنی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ شیفر نے بتایا کہ "یہ روشنی موسموں کے ساتھ بدلتی ہے، جیسے انٹارکٹیکا میں ہوتا ہے، اور یہ بہت اہم ہے۔”
پینگوئن کے لیے خاص رہائش گاہ کو روزانہ ایک ڈگری سیلسیئس پر رکھا جاتا ہے اور ان کے لیے روزانہ تازہ برف بنائی جاتی ہے۔ "ہمارے پینگوئنز نے حال ہی میں 19 انڈے دیے ہیں، جو بہت شاندار افزائش کا مظہر ہے،” شیفر نے بتایا۔ وہ کہتی ہیں کہ نوزائیدہ پینگوئنز واٹر پروف نہیں ہوتے، اور بعض اوقات انڈے کو بروڈر روم میں رکھ کر اس وقت تک گرم رکھا جاتا ہے جب تک وہ واپسی کے قابل نہ ہو جائے۔
یہ دیکھ بھال صرف اپنے جانوروں تک محدود نہیں بلکہ بچائے گئے جانوروں تک بھی پھیلی ہوئی ہے، جنہیں مقامی شراکت داروں جیسے ماحولیاتی ایجنسی ابوظہبی کی مدد سے لایا جاتا ہے۔ "فی الحال ہمارے پاس تقریباً 100 سمندری کچھوے ہیں جو جلد ہی رہائی کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں،” شیفر نے بتایا۔ "ان میں سے ایک اپنی پچھلی ٹانگ کھو چکا ہے، کچھ کے جسم پر بارنیکلز اور دیگر رکاوٹیں تھیں جو ان کی سانس یا حرکت میں رکاوٹ تھیں۔”
جانوروں کی نگہداشت کے لیے اسپتال میں سرجری روم اور ایکسرے سہولیات موجود ہیں۔ "ہم جانوروں کو سی ٹی اسکین مشین پر لے جانے کے بجائے، مشین ان کے پاس لے جاتے ہیں،” شیفر نے کہا۔ "ہم اپنے تمام جانوروں کے مکمل اسکین کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔”
جانور طبی معائنے میں حصہ لینے کے لیے خصوصی تربیت سے گزرتے ہیں، جسے ‘مانوس بنانے کا عمل’ کہتے ہیں۔ شیفر نے کہا، "یہ کبھی حیران کن نہیں ہوتا، بلکہ ایک عام سا عمل بن جاتا ہے، اور جانور پھر اپنے دن کے معمولات پر واپس آ جاتے ہیں۔”
روڈریگیز نے آخر میں کہا، "سی ورلڈ ابوظہبی شاید مہمانوں کے لیے ایک تفریحی پارک ہو، مگر ہمیں فخر ہے کہ ہمارا ادارہ چڑیا گھروں اور آبی حیات کی بین الاقوامی تنظیم سے تصدیق شدہ ہے۔ ہمیں عالمی انسانی ہمدردی کی سند بھی حاصل ہے… اس پارک میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جن پر ہمیں اپنے جانوروں کی نگہداشت کی بنیاد پر فخر ہے۔







