متحدہ عرب امارات

دبئی میں ‘ری بورن ڈولز’ کا رجحان زور پکڑنے لگا — حقیقت سے قریب ترین گڑیا کیوں خرید رہے ہیں لوگ؟

خلیج اردو
دبئی: وہ دیکھنے میں بالکل اصلی بچوں جیسے لگتے ہیں، ان کا وزن بھی حقیقی نوزائیدہ بچوں جیسا ہوتا ہے، لیکن وہ درحقیقت گڑیاں ہیں — اور انہیں ری بورن ڈولز کہا جاتا ہے۔ دبئی اور متحدہ عرب امارات میں یہ گڑیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، اور لوگ انہیں جمع کرنے، ذہنی سکون حاصل کرنے یا محض ان کی حقیقت سے قریب تر بناوٹ کے باعث خرید رہے ہیں۔

ان گڑیوں کو تھراپی، تفریح، یا جذباتی سہارا دینے والے آلے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ انسٹاگرام پر "uae.doll” کے نام سے ایک مقامی سیلر کے مطابق، ان گڑیوں کی قیمت اب 300 سے 500 درہم تک ہے، جو پہلے کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔

"ہم نے یہ کاروبار 2014 میں شروع کیا، جب ان کی قیمت دو ہزار درہم سے شروع ہوتی تھی اور زیادہ تر اسپین یا امریکہ سے درآمد کی جاتی تھیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ شروع میں یہ گڑیاں اسپین سے منگوائی جاتی تھیں، اور انسٹاگرام پر تصاویر اپلوڈ کرنے کے بعد طلب میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ بعد ازاں، چینی مارکیٹ سے کم قیمت والے ماڈلز آنے لگے، جس سے عام افراد بھی انہیں خریدنے لگے۔

ان کے گاہکوں میں بچے، مائیں، نانیاں، دادیاں، اور بعض اوقات نوجوان مرد بھی شامل ہیں، جو انہیں اپنی منگیتر کے لیے تحفے کے طور پر خریدتے ہیں۔ ہر گڑیا کے ساتھ کپڑوں، ربن، فیڈنگ بوتل، نیپی، بیگ، اسٹرالر اور کار سیٹ سمیت دیگر لوازمات بھی شامل ہوتے ہیں۔

"میری بیٹی سالوں سے چھوٹی بہن مانگ رہی تھی، تو میں نے اسے ایک ری بورن ڈول خرید دی”
شارجہ میں مقیم لیلیٰ نامی خاتون کا کہنا تھا کہ ان کی نو سالہ بیٹی اس گڑیا کو کھلاتی، سلاتی اور اس کا خیال رکھتی ہے، جس سے اسے ذمہ داری اور دیکھ بھال کا جذبہ سکھایا جا رہا ہے۔

تاہم، ہر شخص کا تجربہ خوشگوار نہیں ہوتا۔ دبئی میں 27 سالہ سارہ نے بتایا کہ اس نے محض تجسس میں ایک گڑیا خریدی لیکن کچھ دن بعد اسے دے دیا کیونکہ وہ "بہت حقیقی” لگتی تھی۔
"کئی بار کمرے میں داخل ہوتے ہی ایسا لگتا جیسے کوئی اصل بچہ لیٹا ہو، رات کو خاصی گھبراہٹ ہوتی تھی”، سارہ نے بتایا۔

کچھ صارفین انہیں شوقیہ طور پر عوامی مقامات پر لے جاتے ہیں، جیسا کہ ایک انسٹاگرام صارف نے برج خلیفہ کے قریب تصویر شیئر کی اور لکھا:
"میرے پاس اب تک چار ری بورنز ہیں، اور اب دبئی میں اپنے نئے بچے ‘چیس’ کے ساتھ آئے ہیں۔”

عالمی سطح پر بھی موضوعِ بحث

دنیا بھر میں، خصوصاً برازیل جیسے ممالک میں، ری بورن ڈولز پر نہ صرف شوق بلکہ تنازع بھی پایا جاتا ہے۔ ان گڑیوں کو سوگ کی حالت میں تھراپی، یا والدین بننے کی مشق کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض افراد انہیں اسپتال لے جا کر حقیقی نومولود کے علاج کا تقاضا کرتے ہیں، جس سے قانونی اور سماجی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button