خلیج اردو آن لائن:
اس وقت دنیا بھر میں مختلف کمپنیوں نے مختلف کورونا ویکسین تیار کر لیں ہیں، جو مختلف ممالک میں عام عوام کو لگائی جانی شروع کردی گئی ہیں۔
تاہم، مختلف کمپنیوں کی تیار کردہ ویکسین کے تجربات کے بعد ان ویکسین کےمؤثر ہونے کے نتائج میں بہت فرق ہے۔ بعض کمپنیوں کی ویکیسن 95 فیصد مؤثر ثابت ہوئی تو کچھ کی 70 فیصد۔
لیکن ان میں سے کونسی ویکسین اچھی ہے اور کونسی کم اچھی یا کورونا کے خلاف کم مؤثر ہے؟
آیئے اس بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ اعداد و شمار ہمیں ویکسین کے بارے میں کیا بتاتے ہیں:
خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی اداروں کے مطابق نئی ویکسین کے لیے کم از کم 50 فیصد تک مؤثر ہونا ضروری ہے۔
کورونا ویکسین سے پہلے اب تک تیز ترین جو بھی ویکسین تیار کی گئی ہے اس کی تیاری میں کم از کم 4 سال لگے ہیں۔
تاہم، کورونا ویکسین اب تک کی سب سے جلد تیار کی جانے والی ویکسین ہے۔ جو اب کئی ممالک میں عام عوام کو لگائی جا رہی ہے اور متحدہ عرب امارات ان ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔
کورونا ویکسین کی تیاری میں ہزاروں لوگوں پر تجربات کیے گئے ہیں جس کے بعد ان تجربات کے نتائج شائع کیے گئے ہیں۔ جس کے بعد ویکسین کو تیار کیا گیا ہے اور عام کو لگائی جانے لگی ہے۔
کورونا وبا کے بعد کورونا ویکسین کی اتنی بڑی تعداد میں تیاری کے دوران ویکسین بنانے کے نئے طریقے ایجاد ہوئے ہیں جن سے آنے والے دنوں میں دیگر ویکسینز اور ادویات کی جلد تیاری میں بھی مدد ملے گی۔
تاہم، اس وقت جو اہم سوال لوگوں کے دماغ میں اٹھ رہا کہ اب تک تیار ہوجانے والی کورونا ویکسینز میں سے کونسی ویکسین سب سے زیادہ افادیت رکھتی ہے۔
اس وقت یواے ای میں چینی کمپنی سینوفارم، امریکی کمپنی فائزر، اور روسی کی تیار کردہ سپنٹکن ویکسین لگائی جاری ہے۔ روسی ویکسین کو حال ہی میں ایمرجنسی استعمال کے لیے منظور کیا گیا ہے۔
درج بالا ویکسین کے علاوہ موڈرنا، کوی شیلڈ، کوویکسین، نامی ویکسینز اس وقت تیار ہو کر مارکیٹ میں آ گئی ہیں۔ ذیل میں نجی خبر رساں ادارے گلف نیوز کیجانب سے ان ویکسینز کی افادیت کے حوالے سے کیا گیا موازنہ کی تصوایر لگائی ہیں۔ جو آپ کو یہ سمجھنے میں آسانی دیں گیں کے مختلف کمپنیوں نے ویکسین کیسے تیار کی اور اس کی افادیت کتنی ہے اور اس ویکسین کو کتنے درجہ حرارت پر محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اس وقت 7 ارب آبادی کو ویکسین کی دو خوراکیں لگائی جانی ہیں۔ جس کے مطلب ہے ہر ملک کو اپنے مالی وسائل ایک بڑا حصہ ویکسین کے لیے مختص کرنا ہوگا۔

اس لیے بہت سارے ممالک میں ویکسین عام عوام تک پہنچنے میں کچھ دیر لگے گی لہذا ہمیں اس صورتحال میں بھی ہمت سے کام لینا ہوگا اورت تک کورونا کے خلاف بنائے گئے قواعد و ضوابط عمل کرتے ہوئے اپنی حفاظت کرنی ہوگی۔
Source: Gulf News






