
خلیج اردو
دبئی حکومت نے فرسٹ الخیل اسٹریٹ ڈویلپمنٹ پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 15 کلومیٹر طویل، تین لین پر
مشتمل دوطرفہ ایلیویٹڈ کوریڈور تعمیر کیا جائے گا۔ یہ کوریڈور شیخ زاید روڈ کے متوازی ہوگا، تعمیراتی کام 2027 کی تیسری سہ ماہی میں شروع ہوگا جبکہ منصوبہ 2030 کی چوتھی سہ ماہی میں مکمل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے 26 لاکھ افراد مستفید ہوں گے، البرشا، القوز، بزنس بے اور میدان تک رسائی بہتر ہوگی، سڑک کی گنجائش میں فی گھنٹہ 9 ہزار گاڑیوں کا اضافہ ہوگا جبکہ رش کے اوقات میں شیخ زاید روڈ پر سفر کا دورانیہ 51 فیصد تک کم ہونے کی توقع ہے۔
فرسٹ الخیل اسٹریٹ کا مقصد شیخ زاید روڈ یا الخیل روڈ کا متبادل بننا نہیں بلکہ رہائشی اور تجارتی علاقوں کے درمیان روزمرہ کے مختصر سفروں کو آسان بنانا ہے۔ یہ سڑک بزنس بے، القوز، البرشا ہائٹس، دی گرینز اور میدان جیسے علاقوں سے گزرتی ہے جہاں ہزاروں افراد روزانہ ملازمت، تعلیم، خریداری، ٹیکسی اور ڈیلیوری سروسز کے لیے سفر کرتے ہیں۔
بزنس بے میں رہنے والے فنانس پروفیشنل محمد عارف کا کہنا ہے کہ دفتر چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہونے کے باوجود اصل مشکل بزنس بے سے نکل کر شیخ زاید روڈ تک پہنچنا ہے۔ ان کے مطابق اگر نیا کوریڈور آمدورفت بہتر بناتا ہے تو روزانہ کے مختصر سفر میں نمایاں آسانی آئے گی۔
البرشا ہائٹس کی رہائشی انجلی کے مطابق اس وقت زیادہ تر لوگ ٹریفک کی صورتحال دیکھ کر شیخ زاید روڈ یا الخیل روڈ استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک اور شمال-جنوب کوریڈور دستیاب ہو جائے تو ٹریفک مختلف سڑکوں پر تقسیم ہوگی اور روزانہ 10 سے 15 منٹ کی بچت بھی بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔
القوز میں کام کرنے والے رضوان احمد کا کہنا ہے کہ مسئلہ فاصلے کا نہیں بلکہ مرکزی شاہراہوں تک پہنچنے میں لگنے والا وقت ہے۔ ان کے مطابق بہتر رابطہ سڑکیں روزانہ کے سفر کو کم پریشان کن بنا دیں گی۔
ٹیکسی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ نیا کوریڈور بزنس بے، القوز اور البرشا جیسے علاقوں کے درمیان مختصر فاصلے کے سفر کو تیز بنائے گا اور آن لائن بکنگ پر مسافروں تک جلد پہنچنے میں بھی مدد دے گا۔
فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز کے مطابق وہ کئی مرتبہ سگنلز سے بچنے کے لیے لمبا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر فرسٹ الخیل اسٹریٹ پر ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہوا تو رش کے اوقات میں بھی صارفین تک آرڈرز زیادہ تیزی سے پہنچائے جا سکیں گے۔







