متحدہ عرب امارات

یومِ پرچم متحدہ عرب امارات: تین نومبر کیوں منایا جاتا ہے اور کس طرح ایک نوجوان کا ڈیزائن منتخب ہوا

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں ہر سال 3 نومبر کو یومِ پرچم منایا جاتا ہے، جب ملک کے گلی کوچے، عمارتیں اور گھر سرخ، سبز، سفید اور سیاہ رنگوں میں رنگ جاتے ہیں۔ شہریوں اور تارکینِ وطن سبھی ایک ساتھ قومی پرچم بلند کر کے اس اتحاد اور فخر کے لمحے کو مناتے ہیں جو ہر دل کو متحد کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 3 نومبر کو صبح 11 بجے قومی پرچم لہرائیں تاکہ اتحاد اور حب الوطنی کا اظہار کیا جا سکے۔

یومِ پرچم دراصل اس روز کی یاد میں منایا جاتا ہے جب ملک کے دوسرے صدر، شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے قیادت سنبھالی اور شیخ زاید کے ترقیاتی وژن کو آگے بڑھایا۔ شیخ محمد بن راشد المکتوم نے 11 دسمبر 2012 کو اسے ایک قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا، اور پہلی بار 2013 میں اسے باقاعدہ طور پر منایا گیا۔

یومِ پرچم کا مقصد صرف قومی فخر کا اظہار نہیں بلکہ ان رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنا بھی ہے جنہوں نے متحدہ عرب امارات کو ریت کے صحراؤں سے بلند و بالا عمارتوں تک پہنچایا۔

پرچم کی کہانی

متحدہ عرب امارات کا پرچم خود عوام کی شمولیت سے تخلیق ہوا۔ اتحاد سے پہلے ابوظہبی کے دیوانِ امیری نے قومی پرچم کے ڈیزائن کے لیے ایک مقابلے کا اعلان کیا۔ الاتحاد اخبار میں شائع ہونے والے اشتہار نے ایک 19 سالہ اماراتی نوجوان عبداللہ محمد المعینہ کی توجہ حاصل کی۔ اس نے چھ ڈیزائن جمع کروائے جن میں سے ایک ہزار سے زائد تجاویز میں اس کا ڈیزائن منتخب ہوا۔

عبداللہ المعینہ، جو اس وقت زیورات کے ڈیزائن بھی کرتے تھے، نے خلیج ٹائمز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ "میں نے اشتہار دیکھا تو صرف تین دن باقی تھے، میں نے فوراً ڈرائنگ کے اوزار لیے اور ساری رات جاگ کر ڈیزائن بنایا۔” ان کے مطابق، قومی پرچم ان کی زندگی کا "سب سے قیمتی زیور” ہے جو انہوں نے کبھی بنایا۔

پہلی بار پرچم کب لہرایا گیا

2 دسمبر 1971 کو، متحدہ عرب امارات کے بانی شیخ زاید بن سلطان آل نہیان نے پہلی مرتبہ قومی پرچم بلند کیا۔ اس دن دو پرچم لہرائے گئے — ایک دبئی کے یونین ہاؤس میں اور دوسرا ابوظہبی میں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی لمحے عبداللہ المعینہ کو پہلی بار معلوم ہوا کہ ان کا ڈیزائن منتخب ہوا ہے۔ وہ ٹی وی پر پرچم لہرانے کی تقریب دیکھ رہے تھے، پھر خوشی میں دوڑتے ہوئے تقریباً آدھے گھنٹے میں مشرف پیلس پہنچے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے فخر سے وہی پرچم لہراتے دیکھا جو انہوں نے ڈیزائن کیا تھا۔ بعد ازاں انہیں باقاعدہ طور پر فاتح قرار دیا گیا اور 4000 ریال انعام دیا گیا، کیونکہ اس وقت درہم متعارف نہیں ہوا تھا۔

پرچم کے رنگوں کا مطلب

عبداللہ المعینہ نے پرچم کے رنگوں کا انتخاب شاعر صفی الدین الحلی کے ایک شعر سے متاثر ہو کر کیا، جس میں سفید کردار کی پاکیزگی، سبز میدان، سیاہ جنگ اور سرخ تلوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سرخ: بہادری، قربانی اور جرات کی علامت۔
سبز: ترقی، خوشحالی اور ثقافتی فروغ کی نمائندگی۔
سفید: امن، نیکی اور خدمتِ خلق کی علامت۔
سیاہ: طاقت، عزم اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button