
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں حالیہ دنوں کے دوران غیر مستحکم موسم، شدید بارش، گرج چمک اور بعض علاقوں میں ژالہ باری کے بعد شہریوں میں یہ سوال ایک بار پھر زیرِ بحث ہے کہ کیا امارات میں دوبارہ برفباری ہو سکتی ہے۔ یہ تجسس اس وقت مزید بڑھا جب سعودی عرب میں نایاب برفباری کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں، جن میں صحرائی اور پہاڑی علاقوں کو سفید چادر میں ڈھکا ہوا دیکھا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق 18 دسمبر کو سرد ہواؤں کے طاقتور نظام کے باعث سعودی عرب کے مختلف حصوں میں برفباری ریکارڈ کی گئی، جن میں ریاض کے شمال میں المجمعہ اور الغاط کے علاقے جبکہ شمال مغرب میں جبل اللوز جیسے بلند پہاڑی مقامات شامل ہیں۔ سعودی نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے مطابق درجہ حرارت میں شدید کمی، بعض علاقوں میں درجہ حرارت صفر سے نیچے چلا گیا، جبکہ بارش لانے والے گرج چمک کے بادلوں نے برفباری کے حالات پیدا کیے، جس کے باعث سڑکوں پر پھسلن کے پیش نظر شہریوں کو احتیاط کی ہدایت جاری کی گئی۔
اس تناظر میں جب امارات میں برفباری کے امکانات سے متعلق سوال کیا گیا تو نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی سے وابستہ ماہر ڈاکٹر احمد حبیب نے واضح کیا کہ برفباری کے لیے نہایت مخصوص فضائی حالات درکار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برف عموماً صرف بلند مقامات پر اس وقت گرتی ہے جب فضا کی بالائی سطحوں میں درجہ حرارت نمایاں حد تک کم ہو جائے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایسے حالات بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں، یہاں عموماً ژالہ باری ہی ہوتی ہے۔
امارات میں رواں سردیوں کے دوران بعض مناظر ایسے بھی دیکھنے میں آئے جنہیں شہریوں نے برفباری سے مشابہ قرار دیا۔ حالیہ دنوں میں شدید سرد بارشوں کے دوران ژالہ باری نے صحرائی علاقوں کو سفید کر دیا، جبکہ ایک اور سرد لہر کے دوران العین اور راس الخیمہ میں درجہ حرارت صفر کے قریب پہنچ گیا، جس پر شہریوں نے پہاڑی علاقوں کا رخ کیا جہاں زمین پر برف جیسی تہہ جمنے کے مناظر سامنے آئے، جسے بعض افراد نے آئس چیِسنگ کا نام دیا۔
اگرچہ برفباری امارات میں انتہائی نایاب ہے، تاہم ماضی میں ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 24 جنوری 2009 کو راس الخیمہ کے جبل جیس میں برفباری ریکارڈ کی گئی، جب ملک کی تاریخ کی سرد ترین راتوں میں سے ایک رات کے دوران درجہ حرارت منفی تین ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا تھا۔ اس دوران تقریباً 5700 فٹ کی بلندی پر واقع پہاڑی چوٹیوں پر پانچ کلومیٹر سے زائد رقبے پر برف جم گئی، بعض مقامات پر برف کی موٹائی 20 سینٹی میٹر تک ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح 2004 میں بھی دسمبر کے دوران برفباری ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم حکام کے مطابق 2009 کی برفباری زیادہ شدید اور طویل تھی۔ بعد ازاں 2020 میں بھی جبل جیس پر درجہ حرارت صفر سے نیچے جانے کے بعد برفباری دیکھی گئی، جس کی وجہ فضائی دباؤ کے نظام میں تبدیلی اور بالائی فضائی حالات کو قرار دیا گیا۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق موجودہ حالات میں امارات میں برفباری کے امکانات نہایت کم ہیں اور شہریوں کو زیادہ تر بارش، گرج چمک اور ژالہ باری کا ہی سامنا رہتا ہے، جبکہ برفباری صرف مخصوص اور نایاب حالات میں بلند پہاڑی علاقوں تک محدود رہ سکتی ہے۔






