
خلیج اردو
09 ستمبر 2021
دبئی : اگر آپ پارٹ ٹائم نوکری کرنے کے خواہاں ہیں لیکن آپ کو معلوم نہیں کہ اس سے آپ کی نوکری پر کیسے اثر پڑے گا تو وزارت انسانی وسائل اور ایمریٹائزیشن نے اس حوالے سے ملازمین کو جزوی طور پر کیے جانے والے ملازمت کے معاہدے سے باخبر کیا ہے تاکہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ رہیں۔
اس ورکنگ سسٹم سے آپ ایک سے زیادہ آجروں کیلئے کام کر سکتے ہیں۔ وزارت ملازمت اور ریگولیشن نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا ہے کہ آپ کو اپنے بنیادی یا اصل آجر سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں اگر یہ ورکنگ آوور ہفتے میں بیس گھنٹے سے زیادہ نہ ہوں۔
میں کتنے گھنٹوں کیلئے پارٹ ٹائم جاب کر سکتا ہوں؟
ابراہیم البانا ایڈویکیٹس اور لیگل کنسلٹنٹس کے سی ای او نے گلف نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ جزوی طور پر کیے جانے والے کنٹریکت سے ایک شخص کو اجازت ملتی ہے کہ وہ کسی دوسری کیلئے کام کرے۔ یہ ان اوقات سے کم ہونا چاہیئے چاہیئے کسی ملازم کی بنیادی نوکری ہے۔
پارٹ ٹائم جاب کے اوقات فل ٹائم جاب کے اوقات سے کم ہونے چاہیئے۔ پارٹ ٹائم میں کوئی ایسی لمٹ نہیں کہ جو اوقات کے حوالے سے ہو،
پارٹ ٹائم نوکری کیلئے لازمی نہیں کہ آپ مرکزی جاب کے آجر سے اجازت لیں۔
آپ کو پارٹ ٹائم کام کرنے کیلئے اپنے اصل آجر کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے ،ڈاکٹر ابراہیم نے اس حقیقت کو دہرایا کہ قانون کہتا ہے کہ ایک ملازم ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ آجروں کیلئے کام کر سکتا ہے ۔
تاہم دیگر لوازمات ہیں جن کا پاس رکھنا لازم ہے جو قانونی طور پر پارٹ ٹائم جاب کرنے کیلئے ضروری ہیں اس کیلئے ملازم کو ہنر کی تین لیول پر آنا چاہیئے جو وزارت ملازمت نے طے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ آجر کو وزارت سے ورک پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔
پارٹ ٹائم ورک پرمٹ کیلئے درخواست دینا بہت آسان ہے۔ یہ کام کا اجازت نامہ حاصل کرنے کیلئے دستخط شدہ پارٹ ٹائم معاہدہ وزارت کو جمع کروایا جا سکتا ہے۔پارٹ ٹائم ورک پرمٹ کی فیس سو درہم ہے کی اور اس کے علاوہ پانچ سو درہم کی منظوری شامل ہے۔
Source : Gulf News







