Uncategorized

یو اے ای میں اسکول بس سفر کا دورانیہ محدود، بچوں کی صحت پر خدشات

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ماہرینِ صحت نے اسکول بس میں طویل سفر کرنے والے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات سے خبردار کرتے ہوئے سفری دورانیہ محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

والدین کی جانب سے Federal National Council میں شکایات کے بعد معاملہ دوبارہ زیرِ بحث آیا جہاں بتایا گیا کہ بعض طلبہ روزانہ دو گھنٹے سے زائد وقت اسکول آنے جانے میں صرف کر رہے ہیں جس سے تھکن اور روزمرہ معمولات متاثر ہو رہے ہیں۔

رکن کونسل نعمہ عبداللہ الشرحان نے نشاندہی کی کہ بعض طلبہ طویل وقت بسوں میں گزارنے پر مجبور ہیں جس سے ان کی فلاح و بہبود متاثر ہو رہی ہے۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیرِ تعلیم سارہ الامیری نے اعلان کیا کہ اب کنڈرگارٹن کے طلبہ کے لیے سفری وقت 45 منٹ جبکہ بڑے بچوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 منٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر مایا پربھاکرن کے مطابق طویل روزانہ سفر بچوں میں دائمی تھکن، سر درد، چڑچڑاپن، یادداشت اور توجہ میں کمی کا باعث بن سکتا ہے جبکہ جسمانی سرگرمی کے مواقع بھی کم ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسکول بسوں میں طویل وقت بیٹھنے سے جسمانی ساخت متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں گردن، کندھوں اور کمر کے نچلے حصے میں درد پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان بچوں میں جو بھاری اسکول بیگ اٹھاتے ہیں۔

اسی طرح ڈاکٹر ممتا بوتھرا نے کہا کہ روزانہ طویل سفر بچوں کی نیند کے دورانیے کو کم کر دیتا ہے اور تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ یہ توجہ، جذباتی توازن اور یادداشت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

ماہرین کے مطابق نئے مقرر کردہ اوقات عالمی فلاحِ اطفال کے معیار کے مطابق ہیں اور اس سے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما میں بہتری متوقع ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button