
خلیج اردو
امریکی امیگریشن قوانین کا مستقبل ایک بار پھر بحث کی زد میں ہے، اور اس بار خدشات صرف سیاسی نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کے بھی ہیں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات سمیت دنیا بھر میں مقیم اُن ہزاروں تارکینِ وطن کے لیے جو کام کے سلسلے میں امریکا کا سفر کرتے ہیں یا جن کے اہلِ خانہ ایچ ون بی ویزا پر موجود ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ایک نئی تجویز کے تحت امریکا میں مستقل رہائش کے لیے اہلیت جانچنے کے طریقۂ کار، جسے پبلک چارج رول کہا جاتا ہے، میں تبدیلی کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ سکیورٹی اسکریننگ میں اضافے کے باعث امریکی قونصل خانوں میں ویزا اپائنٹمنٹس میں تاخیر پہلے ہی کئی خاندانوں کو متاثر کر رہی ہے۔
پبلک چارج رول اس بات کا تعین کرتا ہے کہ آیا گرین کارڈ کے درخواست گزار مستقبل میں سرکاری امداد پر انحصار کر سکتے ہیں یا نہیں۔ 2022 کے موجودہ ضوابط کے تحت جانچ زیادہ تر مالی خود کفالت پر مرکوز ہے، تاہم نئی تجویز میں ایسے معیارات شامل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے جنہیں امریکی قانون ساز غیر واضح اور مبہم قرار دے رہے ہیں۔ 127 امریکی ارکانِ کانگریس نے محکمۂ داخلی سلامتی کو خط لکھ کر اس تجویز کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس سے ایچ ون بی سے گرین کارڈ کے منتظر خاندانوں میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
قانون سازوں کے مطابق ماضی میں پبلک چارج سے متعلق تبدیلیوں کے باعث کئی خاندانوں نے قانونی سہولیات اور فوائد کے استعمال سے بھی گریز کیا، کیونکہ انہیں مستقبل میں امیگریشن مسائل کا خوف لاحق ہو گیا تھا۔ یو اے ای میں مقیم تارکینِ وطن کے لیے یہ غیر یقینی صورتحال مالی منصوبہ بندی، سفری شیڈول اور طویل المدتی فیصلوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو امریکا میں مستقل رہائش کے خواہاں ہیں۔
ایچ ون بی ویزا رکھنے والوں میں بھارتی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جن میں سے کئی ایک دہائی سے زائد عرصے سے گرین کارڈ کے منتظر ہیں۔ نئی مجوزہ تبدیلیاں اس طویل عمل کو مزید غیر متوقع بنا سکتی ہیں۔ امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اس سے خاندانوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، جنہیں خلیج اور امریکا کے درمیان سفر، بچوں کی تعلیم اور طبی سہولیات جیسے معاملات میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب، امریکی سکیورٹی جانچ کے سخت اقدامات کے باعث ویزا اپائنٹمنٹس کی اچانک منسوخی اور تاخیر کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس سے کئی خاندان بیرونِ ملک پھنس گئے ہیں اور وہ امریکا میں اپنی ملازمتوں، تعلیم اور معمولاتِ زندگی میں واپسی سے قاصر ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ ان اقدامات کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ سخت جانچ سے ویزا نظام کے غلط استعمال کو روکا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں تارکینِ وطن کو اپنے سفری منصوبوں، دستاویزات اور طویل المدتی فیصلوں میں اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ایچ ون بی سے گرین کارڈ کا راستہ اب بھی کھلا ہے، تاہم اس میں غیر یقینی عناصر بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث معمول کے سفر اور فیصلے بھی محتاط منصوبہ بندی کے متقاضی ہو گئے ہیں۔






