عالمی خبریں

دو ماہ میں دو ہولناک فضائی حادثے، جنوبی ایشیا ایک بار پھر صدمے میں

خلیج اردو
جنوبی ایشیا کو صرف دو ماہ کے اندر دو مہلک فضائی حادثوں نے ہلا کر رکھ دیا ہے، جن میں درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ ان المناک واقعات نے نہ صرف متاثرہ برادریوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا بلکہ عوامی سطح پر شدید بے چینی بھی پیدا کر دی ہے۔

پیر 21 جولائی کو بنگلہ دیش ایئر فورس کا ایک ایف-7 بی جی آئی جنگی طیارہ ڈھاکا کے دیاباری علاقے میں واقع مائل اسٹون اسکول اینڈ کالج پر جا گرا۔ حادثے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق جبکہ 170 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر وہ طلبہ شامل تھے جو چند لمحے قبل ہی کلاسز سے فارغ ہوئے تھے۔

فوجی حکام کے مطابق چینی ساختہ طیارہ تربیتی پرواز پر تھا اور اسے ممکنہ طور پر تکنیکی خرابی کا سامنا تھا۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری جاری ہے۔ یہ واقعہ بنگلہ دیش میں 1984 کے بعد سب سے ہلاکت خیز فضائی سانحہ قرار دیا جا رہا ہے، جب چٹاگانگ سے ڈھاکا جانے والی ایک پرواز میں 49 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

اس سانحے سے محض ایک ماہ قبل، 12 جون کو بھارت میں ایک اور ہولناک حادثہ پیش آیا، جب ایئر انڈیا کا بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ احمد آباد سے لندن جاتے ہوئے پرواز کے فوراً بعد طبی کالج کمپلیکس پر گر گیا۔ طیارے میں سوار 242 میں سے 241 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ زمین پر موجود مزید 19 افراد لقمہ اجل بنے۔ یوں اس حادثے میں مجموعی طور پر 279 جانیں ضائع ہوئیں۔

حادثے میں ایک برطانوی شہری، وِشوَش کمار رمیش، معجزاتی طور پر زندہ بچ نکلے۔ وہ طیارے میں نشست 11A پر بیٹھے تھے، جو ایمرجنسی ایگزٹ کے قریب تھی۔ وہ شدید جھلسنے کے باوجود ملبے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی بقا نے اس نشست کو امید کی علامت بنا دیا ہے، اور یو اے ای میں کام کرنے والے کچھ ٹریول ایجنٹس کے مطابق اس مخصوص سیٹ کے لیے درخواستوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایئر انڈیا حادثے کے بعد متحدہ عرب امارات سے روانہ ہونے والے مسافروں میں بھی پرواز سے متعلق تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم حفاظتی انتظامات پر توجہ کے ساتھ بیشتر مسافروں نے سفر کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button