
خلیج اردو
غزہ: اسرائیلی فوج کی تازہ ترین بمباری سے غزہ میں مزید 90 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، جبکہ مسلسل جاری محاصرے اور غذائی قلت کے باعث بھوک کے شکار شہریوں کی بڑی تعداد طبی امداد کے لیے اسپتالوں کا رخ کر رہی ہے۔ عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہر تین میں سے ایک فلسطینی کئی کئی دن سے بھوکا ہے۔
فلسطینی اسلامی جہاد نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امداد کے خواہش مند بھوکے فلسطینیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے، اور یہ سب ایک منظم جال کے تحت ہو رہا ہے۔ صرف مئی سے اب تک امدادی مراکز پر 800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ زچگی کے اسپتال اور یتیم خانے بھی محفوظ نہیں رہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے اسرائیل کی کنٹرولڈ تباہی کے شواہد منظرعام پر آ چکے ہیں، جن میں مخصوص علاقوں کو ہدف بنا کر مکمل طور پر مٹی میں ملا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اسرائیل نے حالیہ مذاکرات میں یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے مکمل جنگ بندی کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا ہے، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔







