
خلیج اردو
ریاض: سعودی عرب کے شہزادہ الولید بن خالد بن طلال بن عبدالعزیز آل سعود، جنہیں دنیا بھر میں "سویا ہوا شہزادہ” کہا جاتا تھا، طویل عرصے تک کومہ میں رہنے کے بعد ہفتہ 19 جولائی کو انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سعودی پریس ایجنسی نے شاہی دربار کے حوالے سے جاری کی۔
2005 میں ایک ٹریفک حادثے کے بعد شہزادہ الولید قریب بیس سال تک کومہ میں رہے۔ ان کی نماز جنازہ اتوار 20 جولائی کو عصر کے بعد امام ترکی بن عبداللہ مسجد ریاض میں ادا کی جائے گی۔
ان کے والد، شہزادہ خالد بن طلال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیٹے کے انتقال پر گہرے دکھ اور صبر و رضا کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: "اللہ کے فیصلے اور تقدیر پر مکمل ایمان کے ساتھ ہم اپنے پیارے بیٹے شہزادہ الولید بن خالد بن طلال بن عبدالعزیز آل سعود کے انتقال پر غمزدہ ہیں، اللہ ان پر رحم فرمائے۔”
نماز جنازہ اور تعزیت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
-
مردوں کے لیے نماز جنازہ: امام ترکی بن عبداللہ مسجد، عصر کے بعد
-
خواتین کی نماز: کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال، ظہر کے بعد
-
تعزیت (اتوار تا منگل):
-
مردوں کے لیے: شہزادہ الولید بن طلال کے محل الفخریہ میں
-
خواتین کے لیے: الفخریہ پیلس، شہزادہ طلال بن عبدالعزیز کا محل، مغرب کے بعد
-
شہزادہ خالد بن طلال نے سالہا سال، رمضان کی آخری راتوں سے لے کر عید الاضحیٰ کے دنوں تک، ہر مقدس موقع پر اپنے بیٹے کی صحت یابی کے لیے دعا کی۔ تہجد کی تنہائیوں میں، رمضان کی 29ویں شب، اور عید کے دنوں میں اپنے بیٹے کے لیے اللہ کے حضور ہاتھ اٹھاتے رہے۔
جون 2025 میں، عید الاضحیٰ کے تیسرے دن شہزادہ خالد نے اپنے دیگر دو بیٹوں کے ساتھ شہزادہ الولید کی عیادت کی، اور اس موقع پر سوشل میڈیا پر ایک پر اثر دعا بھی شیئر کی۔






