
خلیج اردو
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے کیس میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔ ایک کیس میں انہیں عمر قید بھی بھگتنا ہوگی۔ شریک مجرم اور سابق وزیر داخلہ اسد الزماں کو بھی سزائے موت کا حکم دیا گیا، جبکہ ریاست سے تعاون پر سابق آئی جی عبداللہ مامون کی سزا پانچ برس قید میں تبدیل کر دی گئی۔
فیصلہ 3 رکنی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سنایا اور اس کے دوران عدالت میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، جہاں جاں بحق افراد کے لواحقین کی آنکھیں نم ہو گئیں، لیکن کچھ لواحقین نے تالیاں بجا کر فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف فیصلہ 450 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ انہوں نے مظاہرین پر مہلک ہتھیار استعمال کیے۔
ڈھاکہ میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پولیس کمشنر نے ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا۔ 2024 میں مظاہروں کے دوران تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ استغاثہ نے شیخ حسینہ واجد کے لیے سزائے موت کی درخواست کی تھی اور مقدمے کا فیصلہ ملک بھر کے ٹی وی چینلز پر براہِ راست دکھایا گیا۔






