
خلیج اردو
22 فروری 2021
ابوظہی : ایک عمارت میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مرمت کے دوران سیڑھیوں سے گر کر ہلاک ہونے والے مزدور کے اہل خانہ کیلئے 70 ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دے دیا گیا ۔ جس کمپنی میں مزدور کام کرتا تھا ، وہ غمزدوہ والدین کو یہ رقم ادا کرے گی۔
العین کی ابتدائی سول عدالت نے مذکوروہ کمپنی جس میں مزدور کام کرتا تھا ، کو ہدایت کی کہ وہ غفلت برتنے کی وجہ سے اس کی موت کا سبب بننے والے خون بہا کے علاوہ ایشیائی باشندے کے والدین کو ہرجانے کی ادائیگی کرے۔
عدالت کے سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ یہ شخص غلطی سے سیڑھی سے گر کر زمین پر لگا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ مزدوروں کو حفاظتی اقدامات کیلئے ضروری انتظامات فراہم کرنے میں بحالی کے حوالے سے کمپنی کی جانب سے غفلت برتی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ ہلاکت واقع ہوگئی۔
استغاثہ نے کمپنی پر حفاظتی اقدامات کی تعمیل کرنے میں کوتاہی اور ناکامی کا الزام عائد کیا تھا۔
اس سے قبل العین کے ابتدائی کریمنل کورٹ نے مذکورہ کمپنی کو حکم دیا تھا کہ مزدور کی موت کمپنی کے غفلت کی وجہ سے ہوئی ہے اسی وجہ سے کمپنی مزدور کے اہل خانہ کو 200 ہزار درہم ادا کرے۔
اس کے بعد مزدور کے والدین نے کمپنی کے خلاف اخلاقی اور مادی نقصانات کی مد میں 100،000 درہم ہرجانے کا مطالبہ کیا۔ والدین نے اپنے قانونی چارہ جوئی میں کہا کہ متاثرہ شخص ان کا اکلوتا بیٹا تھا جو ان کی دیکھ بھال کررہا تھا اور اور ان کی کفالت کا ذریعہ تھا۔
تمام فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ کیا کہ کمپنی والدین کو انکے نقصان کیلئے70 ہزار درہم کا معاوضہ دے گی۔ کمپنی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کو پہلے ہی کریمنل عدالت نے خون بہا کی رقم دینے کا حکم دیا ہے۔
سول عدالت کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سول ٹرانزیکشن قانون کے مطابق کہ اگر خون بہا کی رقم ادا بھی کی جائے تو دیگر نقصانات کیلئے والدین کے دعوے کو روکا نہیں جاسکتا۔







