عالمی خبریں

24 سال تک اغواہ شدہ بیٹے کی تلاش کرنے والا باپ بلاآخر بیٹے سے جا ملا، ویڈیو دیکھیں

 

خلیج اردو آن لائن:

24 سال قبل اغوا ہونے والے چینی باشندہ 24 سالوں بعد بلاآخر اپنے خاندان سے جا ملا۔ نوجوان تب اغوا ہوا جب محض ڈھائی سال کا تھا۔ اس دن کے بعد اسکا باپ اسکی تلاش کے لیے چین بھر میں گھوم رہا تھا۔ اس تلاش کے دوران باپ کو کبھی بھیک مانگنا پڑی تو کبھی سڑکوں پر سونا پڑا۔

گو گانتانگ کا بیٹا صرف دو سال اور پانچ ماہ کا تھا جب اسے شانڈونگ صوبے سے اغوا کیا گیا تھا۔ وہ اپنے گھر کے باہر تنہا کھیل رہا تھا۔ چینی وزارت عوامی تحفظ کی جاری کردہ ایک بیان کے مطابق  اس کے اغوا کاروں نے اسے ایک کنبے کو فروخت کردیا۔

گو ستائیس سال کا تھا جب اس کے بیٹے کو اغوا کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس نے اپنی ملازمت چھوڑ دی اپنی موٹرسائیکل پر اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ گو اپنی موٹر سائیکل پر بڑے جھنڈے اور اپنے بیٹے کی تصویر لگائی ہوئی تھی۔ اس تلاش کے دوران گو نے 5 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور کبھی کبھی پلوں کے نیچے سونا پڑا اور بھیک مانگنا پڑی۔

گو کی اس تلاش پرمبنی کہانی پر چین میں ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔

تاہم، باپ یہ تلاش اس وقت ختم ہوئی جب ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد پولیس نے اعلان کیا کہ چین کے وسطی صوبے ہنان میں ایک 26 سالہ ٹیچر گو زین ہی گو کا بیٹا ہے۔ جس کے بعد اتوار کے روز بیٹے اور اسکے کنبے کے درمیان ملاقات کروائی گئی۔

ویڈو میں خاندان کو ملتے اور فرط جذبات سے روتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یاد رہے چین میں 80 کی دہائی میں ایک بچہ پالیسی کے نفاذ کے بعد بچوں کے اغوا میں اضافہ ہوا تھا۔ چھوٹے لڑکوں کو اغوا کیا جاتا تھا اور ایسے کنبوں کو فروخت کیا جاتا تھا جنہیں لڑکے کی تلاش ہوتی تھی۔ چونکہ ملک میں لڑکوں کی تعداد کم تھی۔

Source: Gulf Today.

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button