عالمی خبریں

کرونا وبا:معاشی فنڈ پر یورپی یونین میں تاحال اختلافات برقرار

بشکریہ بی۔بی۔سی

کورونا ریکوری فنڈ کے حوالے سے یورپی یونین کے رہنماؤں کے درمیان اختلافِ رائے برقرار ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات اب چوتھے روز میں داخل ہو گئے ہیں۔

750 بلین یورو کے اس پیکیج کا مقصد کورونا وائرس کے باعث شدید معاشی مسائل کا شکار یورپی ممالک کی مدد کرنا ہے۔

تاہم وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک اور ریکوری فنڈ کے اخراجات کے بارے میں فکرمند ممالک کے رہنماؤں کے درمیان سرمائے کی فراہمی، ضوابط اور رسائی کے حوالے سے واضح اور گہرے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

کچھ ممبر ممالک کا خیال ہے کہ 750 بلین یورو کا پیکیج بہت بڑا ہے اور اسے گرانٹ کے بجائے قابل ادائیگی قرضوں کے طور پر دیا جانا چاہیے۔

یہ مذاکرات سخت آزمائشی ہیں اور ان کے دوران یورپی یونین کے رہنماؤں کی قوتِ برداشت کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیر کی صبح کے اوائل میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے میز پر اپنا سر دے مارا اور دھمکی دی کہ وہ مباحثے سے باہر نکل جائیں گے۔

مذاکرات کا آغاز جمعے کو برسلزمیں ہوا تھا لیکن اتوار کی شام تک رہنما کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے رہنماؤں کو یاد دلایا کہ دنیا بھر میں چھ لاکھ سے زیادہ افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ کل کی ہیڈ لائن یہ ہو گی کہ یورپی یونین نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔‘

پیر کی دوپہر 12 بجے بات چیت دوبارہ شروع ہونے والی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button