عالمی خبریں

فلائی دبئی کی ریگا کے لیے براہِ راست پروازوں کا آغاز

خلیج اردو
دبئی کی فضائی کمپنی فلائی دبئی نے لاتویا کے دارالحکومت ریگا کے لیے اپنی پہلی براہِ راست پرواز کا آغاز کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریگا ایئرپورٹ کے درمیان ہفتہ وار تین پروازوں پر مشتمل سروس شروع ہو گئی ہے۔ افتتاحی پرواز ریگا پہنچی تو ایئرپورٹ حکام نے اس کا پرتپاک استقبال کیا، جو متحدہ عرب امارات اور لاتویا کے درمیان اس نئے فضائی رابطے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

لاتویا میں متحدہ عرب امارات کی سفیر نورا جمعہ نے اس موقع پر کہا کہ یہ دن امارات اور لاتویا کے درمیان دوستی کے ایک نئے مرحلے کی علامت ہے۔ ان کے مطابق دبئی اور ریگا کے درمیان فلائی دبئی کی براہِ راست پروازیں نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو مضبوط کریں گی بلکہ سیاحت، کاروبار اور ثقافتی تبادلوں کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گی۔

ان نئی پروازوں سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی آمد و رفت میں اضافہ اور معاشی تعلقات کے فروغ کی توقع ہے، جبکہ لاتویا کے مسافروں کو دبئی کے عالمی حب اور وہاں سے آگے مختلف بین الاقوامی مقامات تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔

فلائی دبئی کے کمرشل آپریشنز اور ای کامرس کے ڈویژنل سینئر نائب صدر جیہون ایفندی نے کہا کہ ریگا کے لیے نئی سروس یورپ میں فلائی دبئی کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مزید مضبوط بناتی ہے اور کم سہولیات والے بازاروں میں رابطے بڑھانے کے اسٹریٹجک عزم کی عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاتویا ایک متحرک اور پرکشش مارکیٹ ہے اور دبئی و ریگا کے درمیان براہِ راست رابطہ مسافروں کے لیے سہولت کا باعث ہوگا، جبکہ کمپنی اپنے بیڑے، خدمات اور آن بورڈ سہولیات میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی تاکہ مسافروں کو بہتر سفری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔

ریگا کے علاوہ فلائی دبئی نے مالدووا کے شہر کشیناؤ، رومانیہ کے یاشی اور لتھوانیا کے شہر ویلنیئس کے لیے بھی نان اسٹاپ پروازیں شروع کی ہیں، جس کے بعد یورپ میں اس کے مقامات کی تعداد 20 ممالک میں 35 تک پہنچ گئی ہے۔

ریگا ایئرپورٹ کے بورڈ کی چیئرپرسن لیلا اوڈینا نے کہا کہ فلائی دبئی کی ریگا ایئرپورٹ سے سروس کا آغاز نہ صرف بالٹکس کے سب سے بڑے ایئرپورٹ کی کنیکٹیوٹی کو مضبوط کرے گا بلکہ مسافروں کو اعلیٰ معیار کی سروس اور وسیع روٹ نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی دے گا۔ ان کے مطابق دبئی کے لیے براہِ راست پرواز سے نہ صرف سیاحتی بلکہ کاروباری اور معاشی روابط میں بھی بہتری آئے گی، جبکہ امارات میں مقیم افراد کے لیے یہ پرواز بالٹک اور اسکینڈینیوین ممالک کی قدرتی اور ثقافتی خوبصورتی دریافت کرنے کا دروازہ کھول دے گی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button