
خلیج اردو
امریکا کی 20 ریاستوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے جس کے تحت نئے ایچ ون بی ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کی گئی ہے۔ ریاستوں کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی غیر قانونی ہے اور اس سے صحت، تعلیم اور دیگر اہم عوامی خدمات شدید متاثر ہوں گی۔
یہ مقدمہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے نافذ کی گئی اس پالیسی کے خلاف دائر کیا گیا ہے جس کے ذریعے ہائی اسکل غیر ملکی ورکرز کی بھرتی کے لیے استعمال ہونے والے ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت فیس میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ یہ پروگرام اسپتالوں، جامعات اور سرکاری اسکولوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ مقدمے کی قیادت کیلی فورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا کر رہے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو اس قسم کی فیس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
روب بونٹا نے کہا کہ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہونے کے ناتے کیلی فورنیا بخوبی جانتا ہے کہ دنیا بھر سے آنے والا ہنر مند ٹیلنٹ ریاست کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر کی ایچ ون بی ویزا فیس غیر ضروری اور غیر قانونی مالی بوجھ ہے، جو کیلی فورنیا کے سرکاری اداروں اور دیگر اہم سروس فراہم کرنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کرے گی اور اہم شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کو مزید بڑھا دے گی۔
یہ فیس صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 19 ستمبر 2025 کو جاری کردہ ایک صدارتی اعلامیے کے ذریعے عائد کی گئی، جس کا اطلاق 21 ستمبر کے بعد دائر ہونے والی ایچ ون بی درخواستوں پر کیا گیا۔ پالیسی کے تحت ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ طے کریں کہ کن درخواستوں پر یہ فیس لاگو ہوگی اور کن کو استثنا دیا جائے گا۔
ریاستوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ایڈمنسٹریٹو پروسیجر ایکٹ اور امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس میں لازمی قواعد سازی کے مراحل کو نظر انداز کیا گیا اور کانگریس کی جانب سے دیے گئے اختیارات سے تجاوز کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایچ ون بی پروگرام سے منسلک فیسیں صرف انتظامی اخراجات تک محدود رہی ہیں۔
فی الوقت ابتدائی ایچ ون بی درخواست جمع کرانے والے آجران مختلف ریگولیٹری اور قانونی فیسوں کی مد میں 960 سے 7 ہزار 595 ڈالر تک ادا کرتے ہیں۔ کانگریس نے نجی شعبے کے لیے ایچ ون بی ویزوں کی سالانہ حد 65 ہزار مقرر کر رکھی ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والوں کے لیے اضافی 20 ہزار ویزے مختص ہیں۔ سرکاری اور غیر منافع بخش ادارے، جن میں اسکول، جامعات اور اسپتال شامل ہیں، عام طور پر اس حد سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔
اٹارنی جنرلز کا کہنا ہے کہ نئی فیس سے خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں عملے کی قلت مزید سنگین ہو جائے گی۔ 2024–2025 کے تعلیمی سال کے دوران امریکا کے 74 فیصد اسکول اضلاع نے خالی آسامیوں کو پُر کرنے میں مشکلات کی اطلاع دی، جن میں خصوصی تعلیم، فزیکل سائنسز، ای ایس ایل یا دو لسانی تعلیم اور غیر ملکی زبانیں شامل ہیں۔ اساتذہ ایچ ون بی ویزا رکھنے والوں میں تیسرا بڑا پیشہ ور گروپ ہیں۔
صحت کے شعبے میں بھی اس پروگرام پر بھاری انحصار کیا جاتا ہے۔ مالی سال 2024 میں طب اور صحت سے متعلق پیشوں کے لیے تقریباً 17 ہزار ایچ ون بی ویزے جاری کیے گئے، جن میں سے تقریباً نصف ڈاکٹروں اور سرجنز کو ملے۔ اندازوں کے مطابق امریکا کو 2036 تک 86 ہزار ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہوگا۔
یہ مقدمہ کیلی فورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا اور میساچوسٹس کی اٹارنی جنرل آندریا جوئے کیمبل نے دائر کیا، جن کے ساتھ ایریزونا، کولوراڈو، کنیکٹی کٹ، ڈیلاویئر، ہوائی، الینوائے، میری لینڈ، مشی گن، منی سوٹا، نیواڈا، نارتھ کیرولائنا، نیو جرسی، نیویارک، اوریگن، رہوڈ آئی لینڈ، ورمونٹ، واشنگٹن اور وسکونسن کے اٹارنی جنرلز بھی شامل ہیں۔
ایچ ون بی پروگرام ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے امریکا میں کام کرنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں بھارتی ماہرین ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیمی تحقیق کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔






