
خلیج اردو
روم – جی 7 ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی سے متعلق غیر ضروری اور اشتعال انگیز سرگرمیوں کو دوبارہ شروع نہ کرے اور جوہری معاہدے کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مکمل تعاون کرے۔ جی 7 وزرائے خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بیان میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی کو دی جانے والی دھمکیوں، گرفتاری اور پھانسی کے مطالبات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ ایسے بیانات عالمی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں اور سفارتی ماحول کو مزید خراب کرتے ہیں۔
جی 7 نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جنگ بندی کی حمایت کا اعادہ کیا، اور زور دیا کہ علاقائی استحکام کے لیے کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے۔
اجلاس کے اعلامیے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک "جامع، قابلِ تصدیق اور دیرپا” معاہدے کے لیے مذاکرات کی بحالی پر بھی زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کو پرامن جوہری سرگرمیوں تک محدود رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرے۔







