
خلیج اردو
بینکاک – تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم پیٹونگٹرن شیناواترا کو فوج کو کمزور کرنے کے الزام میں عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے 7-2 کے ووٹنگ تناسب سے وزیراعظم کی معطلی کا فیصلہ سنایا، جسے ایک بڑی سیاسی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم پر الزام ہے کہ ان کی حکومت نے فوجی ادارے کے اختیارات اور کردار کو محدود کرنے کے اقدامات کیے، جسے عدالت نے آئین کی ممکنہ خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے کارروائی شروع کی۔
عدالت نے پیٹونگٹرن شیناواترا کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں دلائل اور شواہد پیش کریں، جس کے لیے انہیں 15 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ اس دوران وہ بطور وزیر اعظم اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکیں گے۔
تھائی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق یہ اقدام ملک میں سول-ملٹری تعلقات میں تناؤ اور سیاسی عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ پیٹونگٹرن شیناواترا سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناواترا کے صاحبزادے ہیں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ تصور کیے جاتے ہیں۔







