عالمی خبریں

مشرق وسطیٰ جنگ کے اثرات: بھارت کو فوری ریلیف کے ساتھ طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت، معیشت کو شدید خطرات لاحق

خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں جاری امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کے باعث جنوبی ایشیا کی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں، اور ماہرین کے مطابق اس کے منفی اثرات خطے کی ترقی پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ بھارت کے چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشورن نے خبردار کیا ہے کہ مالی سال مارچ 2027 تک تجارتی خسارہ نمایاں طور پر بڑھے گا، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت، کاروباری طبقے اور عوام کو مشترکہ طور پر بوجھ برداشت کرنا ہوگا، جبکہ درآمدی قیمتوں میں اضافے سے طلب میں کمی بھی متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ کے اثرات بھارت پر چار بڑے ذرائع سے پڑیں گے، جن میں تیل، گیس اور کھاد کی سپلائی میں رکاوٹ، درآمدی قیمتوں میں اضافہ، لاجسٹکس اخراجات میں اضافہ اور خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں ممکنہ کمی شامل ہیں۔

بھارت کی اقتصادی شرح نمو، جو 7 سے 7.4 فیصد تک متوقع تھی، اب دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس کم کیا ہے جبکہ برآمدات پر ڈیوٹیز بڑھا دی گئی ہیں۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارامن کے مطابق یہ اقدامات قیمتوں میں اضافے سے صارفین کو تحفظ فراہم کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق اگر تیل کی عالمی قیمتیں بلند رہیں تو مستقبل میں مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ مالی سال میں بھارت کی حقیقی معاشی شرح نمو میں ایک فیصد تک کمی اور مہنگائی میں ڈیڑھ فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

مزید برآں ٹیکسٹائل، کیمیکلز، کھاد، سیمنٹ اور ٹائرز سمیت کئی صنعتی شعبے براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ بھارت جو اپنی تقریباً 90 فیصد تیل کی ضروریات درآمد کرتا ہے، بیرونی جھٹکوں کے لیے انتہائی حساس ہے، جبکہ خام تیل کی قیمت 80 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

اسی طرح پاکستان اور سری لنکا کی معیشتیں بھی اس بحران سے متاثر ہو رہی ہیں، جہاں ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں دوگنا اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کو برآمدات میں بھی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ خطے کے ممالک کو فوری ریلیف اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل المدتی اقتصادی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے تاکہ عالمی بحرانوں کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button