
خلیج اردو
ایران میں اہم سیاسی پیش رفت کے تحت رہبرِ ایران آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے طور پر آیت اللہ سید مجتبیٰ علی حسینی خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس تقرری کا باضابطہ اعلان مجلسِ خبرگان کی جانب سے کیا گیا۔
مجلسِ خبرگان کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مجلس نے مکمل مشاورت اور طے شدہ آئینی طریقہ کار کے تحت آیت اللہ سید مجتبیٰ علی حسینی خامنہ ای کو نئی قیادت کے طور پر منتخب کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق نئی قیادت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایران اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، استحکام اور مضبوطی کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ دنیا بھر کے مسلمانوں اور آزاد لوگوں سے اپیل بھی کی گئی کہ وہ اس قیادت کے گرد متحد ہو کر امتِ مسلمہ کے مفاد میں یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو طویل عرصے سے ایران کے طاقتور حلقوں خصوصاً پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا رہا ہے، اور انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
اگرچہ ایران کے نظریاتی نظام میں موروثی قیادت کے تصور کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، تاہم پاسدارانِ انقلاب اور مرحوم رہبر کے اثر و رسوخ رکھنے والے اداروں میں ان کی مضبوط حمایت موجود بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تقرری پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو بھی نئے رہبر کے انتخاب میں رائے دینے کا حق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نئی قیادت کو امریکا کی منظوری حاصل نہ ہوئی تو وہ زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گی۔
اس سے قبل امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں کم از کم 1332 شہریوں کی ہلاکت اور ہزاروں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں قیادت کی یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید سیاسی اور عسکری تناؤ کا شکار ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔







