
خلیج اردو
غزہ – اسرائیلی فورسز نے غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایک معروف کیفے، اسپتال اور امدادی مرکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں صحافیوں، فنکاروں اور شہریوں سمیت کم از کم 95 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے اس بار نشانہ ان جگہوں کو بنایا جہاں شہری روزمرہ کی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے تھے۔ غزہ کے ایک مشہور کیفے پر حملے میں کئی فنکار اور نوجوان جاں بحق ہوئے، جبکہ اسپتال پر بمباری سے مریضوں اور عملے کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صہیونی فوج نے ایک امدادی مرکز کے باہر کھڑے ان نہتے افراد پر بھی حملہ کیا جو خوراک اور طبی امداد کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 56 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ اسپتالوں میں زخمیوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے جبکہ طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم تاحال اسرائیلی بمباری میں کوئی کمی نہیں آئی۔







